نئی دہلی :برازیل کے صدر لوئز اناسیو لولا دا سلوا کا ہفتہ کے روز نئی دہلی میں واقع راشٹرپتی بھون میں باضابطہ سرکاری استقبال کیا گیا۔ بھارت کی صدر دروپدی مرمو اور وزیر اعظم نریندر مودی نے معزز مہمان کا پرتپاک خیر مقدم کیا۔ استقبالیہ تقریب کے بعد وزیر اعظم مودی اور برازیلی صدر کے درمیان حیدرآباد ہاؤس میں دو طرفہ مذاکرات کا آغاز ہوا، جہاں دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے اور گلوبل ساؤتھ ممالک کے تعاون کو وسعت دینے پر تبادلہ خیال کیا جا رہا ہے۔
تجارت، ٹیکنالوجی اور عالمی امور پر تعاون بڑھانے پر گفتگو
صدر لوئز اناسیو لولا دا سلوا کا یہ سرکاری دورہ 18 سے 22 فروری تک جاری رہے گا۔ اپنے دورۂ بھارت کے دوران وہ انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026 میں بھی شریک ہوئے۔ اس موقع پر صدر دروپدی مرمو برازیلی صدر کے اعزاز میں سرکاری عشائیہ بھی منعقد کریں گی۔ برازیلی صدر کے ہمراہ تقریباً 14 وزراء اور بڑی برازیلی کمپنیوں کے اعلیٰ عہدیداران پر مشتمل وفد بھی بھارت پہنچا ہے۔ وفد میں شامل وزراء اپنے بھارتی ہم منصبوں سے علیحدہ ملاقاتیں کریں گے، جب کہ ایک خصوصی بزنس فورم کا انعقاد بھی کیا جا رہا ہے، جس میں دونوں ممالک کے صنعت کار اور سرمایہ کار شرکت کریں گے۔ ماہرین کے مطابق یہ دورہ بھارت اور برازیل کے درمیان بڑھتے ہوئے تجارتی اور اقتصادی تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ صدر لولا کا بھارت کا چھٹا دورہ ہے۔
دورے کے دوران بھارت کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے بھی برازیلی صدر سے ملاقات کی اور دوطرفہ اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا۔ وزارت خارجہ کے مطابق وزیر اعظم مودی اور صدر لولا عالمی و علاقائی امور، کثیرالجہتی اداروں میں تعاون، عالمی حکمرانی میں اصلاحات اور گلوبل ساؤتھ سے متعلق اہم مسائل پر بھی تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔ توقع کی جا رہی ہے کہ اس اعلیٰ سطحی ملاقات سے بھارت اور برازیل کے تعلقات کو نئی رفتار ملے گی اور دونوں ابھرتی ہوئی معیشتیں عالمی سطح پر مشترکہ کردار ادا کرنے کی سمت مزید آگے بڑھیں گی۔
بھارت ایکسپیریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

