Bharat Express DD Free Dish

PM Modi likely to visit Saudi Arabia soon: سعودی عرب کا جلد ہی دورہ کرسکتے ہیں وزیراعظم نریندر مودی،کیا ہوگا اس بار کا خاص ایجنڈا؟ جانئے

اگر یہ دورہ طے شدہ منصوبے کے مطابق ہوتا ہے، تو یہ بھارت اور سعودی عرب کے درمیان دوستی اور تعاون کے ایک نئے باب کا آغاز ہو سکتا ہے۔مزید تفصیلات کے لیے، سرکاری اعلان کا انتظار کیا جا رہا ہے، جو اس دورے کی حتمی تاریخیں اور ایجنڈا واضح کرے گا۔

وزیراعظم نرندر مودی کے قریبی ذرائع کے مطابق، وہ آئندہ چند ہفتوں میں سعودی عرب کا دورہ کر سکتے ہیں۔ یہ دورہ اپریل کے آخر یا مئی کے آغاز میں متوقع ہے، تاہم ابھی تک اس کی حتمی تاریخیں طے نہیں کی گئیں۔ یہ دورہ خلیج کے اہم ممالک میں سے ایک سعودی عرب کے ساتھ بھارت کے تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے، جو گزشتہ ایک دہائی سے بھارت کا قریبی اتحادی بن کر ابھرا ہے۔

دورے کی وجوہات اور اہمیت

ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم مودی کا یہ دورہ پہلے کسی اور تاریخ کے لیے طے تھا، لیکن دونوں فریقوں کے مصروفیات کی وجہ سے اسے ملتوی کرنا پڑا۔ اب یہ دورہ بھارت-مشرق وسطیٰ-یورپ راہداری (India-Middle East-Europe Corridor) جیسے اہم منصوبوں کو آگے بڑھانے کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ اس راہداری کو بھارت کی سفارتی اور اقتصادی پالیسیوں کا ایک اہم ستون سمجھا جا رہا ہے، جو خطے میں تجارت اور رابطوں کو بہتر بنانے کے لیے اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔اس کے علاوہ، سعودی عرب کے ولی عہد اور وزیراعظم محمد بن سلمان (ایم بی ایس) کے ساتھ ملاقات بھی اس دورے کا اہم حصہ ہو گی۔ محمد بن سلمان نے سعودی عرب میں اہم اصلاحات متعارف کروائی ہیں، جن میں معاشرتی و اقتصادی طور پر زیادہ کھلا رویہ اختیار کرنا بھی شامل ہے۔ ان اصلاحات نے سعودی عرب کو عالمی سطح پر ایک نئے انداز میں پیش کیا ہے، اور بھارت اس سے فائدہ اٹھانے کے لیے پرعزم ہے۔

بھارت اور سعودی عرب کے تعلقات

گزشتہ دہائی کے دوران دونوں ممالک کے سربراہان پانچ بار مل چکے ہیں، جو تقریباً ہر دو سال بعد ایک ملاقات کی اوسط کو ظاہر کرتا ہے۔ اس سے دونوں ممالک کے درمیان باہمی احترام اور تعاون کی گہرائی کا اندازہ ہوتا ہے۔ پی ایم مودی نے مئی 2014 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد سے سعودی عرب کے دو دورے کیے ہیں—ایک اپریل 2016 میں اور دوسرا اکتوبر 2019 میں۔ اب یہ تیسرا دورہ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی، اقتصادی اور اسٹریٹجک تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کی طرف ایک اور قدم ہو گا۔

تجارتی مسائل اور توقعات

آرکے ایجنسی کے مطابق، بھارتی اشیا پر سعودی عرب میں 17 فیصد اضافی ٹیرف عائد کیا جاتا ہے، جو کہ 10 فیصد بنیادی ٹیرف کے علاوہ ہے۔ دوسری طرف، سعودی عرب سے آنے والی اشیا پر صرف 10 فیصد بنیادی ٹیرف ہی لگتا ہے۔ اس دورے کے دوران اس عدم توازن کو دور کرنے اور تجارت کو بہتر بنانے پر بھی بات چیت متوقع ہے۔ بھارت چاہتا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جایا جائے، اور اس کے لیے سعودی عرب کے ساتھ تعاون بہت اہم ہے۔واضح رہے کہ سعودی عرب نہ صرف تیل سے مالا مال ایک ملک ہے بلکہ مشرق وسطیٰ میں سیاسی اور فوجی طاقت کے طور پر بھی اہم کردار رکھتا ہے۔ بھارت کے لیے یہ تعلقات توانائی کی سلامتی، سرمایہ کاری، اور علاقائی استحکام کے لحاظ سے کلیدی اہمیت رکھتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی، سعودی عرب کے ساتھ تعاون بھارت کو عالمی سطح پر اپنی سفارتی موجودگی کو مضبوط کرنے میں بھی مدد دے گا۔

آپ کو بتادیں کہ یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب بھارت اپنے عالمی شراکت داروں کے ساتھ تعلقات کو وسعت دینے اور نئے مواقع تلاش کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اگر یہ دورہ طے شدہ منصوبے کے مطابق ہوتا ہے، تو یہ بھارت اور سعودی عرب کے درمیان دوستی اور تعاون کے ایک نئے باب کا آغاز ہو سکتا ہے۔مزید تفصیلات کے لیے، سرکاری اعلان کا انتظار کیا جا رہا ہے، جو اس دورے کی حتمی تاریخیں اور ایجنڈا واضح کرے گا۔ فی الحال، یہ خبر دونوں ممالک کے تعلقات میں دلچسپی رکھنے والوں کے لیے ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔

بھارت ایکسپریس۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read