وزیرِ اعظم نریندر مودی نے روسی صدر ولادیمیر پوتن کے ساتھ دو طرفہ ملاقات کے دوران بھارت اور روس کے دیرینہ تعلقات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک نے ہمیشہ مشکل ترین حالات میں ایک دوسرے کا ساتھ دیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ دہلی اور ماسکو کے درمیان قریبی تعاون نہ صرف دونوں اقوام کے لیے، بلکہ عالمی امن، استحکام اور خوشحالی کے لیے بھی انتہائی اہم ہے۔ پی ایم مودی نے کہا کہ ’’بھارت اور روس نے ہمیشہ کٹھن حالات میں ایک دوسرے کے شانہ بشانہ کھڑے ہو کر دوستی کو نبھایا ہے۔ ہمارا باہمی تعاون دونوں ممالک کے عوام کے ساتھ ساتھ عالمی امن و خوشحالی کے لیے بھی اہم ہے۔‘‘
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ نے بھارت پر 50 فیصد تک درآمدی محصولات عائد کر دیے ہیں، جن میں روس سے سستا تیل خریدنے پر 25 فیصد اضافی جرمانہ بھی شامل ہے۔ دریں اثنا یوکرین تنازعے پر بات کرتے ہوئے وزیرِ اعظم مودی نے عالمی سطح پر جاری امن کوششوں کا خیر مقدم کیا اور امید ظاہر کی کہ تمام فریقین تعمیری انداز میں آگے بڑھیں گے تاکہ جنگ کا خاتمہ ممکن ہو سکے۔ انھوں نے کہا کہ ’’ہم یوکرین تنازع پر مسلسل گفتگو کرتے رہے ہیں۔ ہم حالیہ امن کوششوں کا خیر مقدم کرتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ تمام فریقین تعمیری رویہ اختیار کریں گے۔ جنگ کا جلد از جلد خاتمہ اور پائیدار امن کا قیام وقت کی اہم ضرورت ہے۔ یہ انسانیت کی آواز ہے۔‘‘
پی ایم مودی نے دونوں ممالک کے درمیان مستقل رابطے، اعلیٰ سطحی ملاقاتوں اور قریبی تعلقات کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ صدر پوتن کی میزبانی کے منتظر ہیں، جو دسمبر میں بھارت کے دورے پر آئیں گے۔ انھوں نے کہا کہ ’’140 کروڑ بھارتی شہری دسمبر میں ہونے والی 23ویں سربراہی ملاقات کے لیے آپ کا بے صبری سے انتظار کر رہے ہیں، جو ہماری شراکت داری کی وسعت اور گہرائی کو ظاہر کرتا ہے۔‘‘ دوسری جانب صدر پوتن نے یوکرین تنازع کے حل کے لیے بھارت اور چین کی کوششوں کو سراہا، جب کہ یوکرین جنگ کے لیے مغرب کو موردِ الزام ٹھہرایا۔ دریں اثنا چینی صدر شی جن پنگ نے بھی شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے عالمی انصاف اور سرد جنگی ذہنیت کے خلاف آواز بلند کی اور عالمی نظام میں کثیر القطبیت (multipolarity) کی اہمیت پر زور دیا۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


