نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی نے منگل کے روز نئی دہلی میں واقع بھارت منڈپم میں منعقدہ بھارت-یورپی یونین بزنس فورم سے خطاب کرتے ہوئے بھارت اور یورپی یونین کے تعلقات کو ایک نئے عہد کی شروعات قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ برسوں میں دونوں فریقوں کے درمیان ہونے والی پیش رفت دنیا کی دو سب سے بڑی جمہوری طاقتوں کے درمیان غیر معمولی ہم آہنگی اور مضبوط شراکت داری کی علامت ہے، جو مستقبل میں عالمی سطح پر ایک مؤثر اتحاد کی صورت اختیار کر سکتی ہے۔ وزیر اعظم نے اپنے خطاب میں کہا کہ پہلی مرتبہ یورپی یونین کے لیڈروں کا بھارت کے یومِ جمہوریہ کے موقع پر مہمانِ خصوصی کے طور پر شرکت کرنا، بھارت اور یورپی یونین کے درمیان تاریخ کا سب سے بڑا آزاد تجارتی معاہدہ طے پانا اور آج اتنے بڑے پیمانے پر بزنس فورم کا انعقاد ہونا، سب اس بات کا ثبوت ہیں کہ دونوں خطے ایک مشترکہ وژن کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے اسے عالمی سیاست اور معیشت میں ایک مثبت اور طاقتور پیغام قرار دیا۔
نریندر مودی نے زور دے کر کہا کہ بھارت اور یورپی یونین کے درمیان مشترکہ اقدار، جمہوری سوچ اور عالمی استحکام کے حوالے سے یکساں ترجیحات موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک کھلی اور جمہوری سوسائٹی ہونے کے ناطے دونوں کے عوام کے درمیان قدرتی قربت ہے، جو اس شراکت داری کو مزید مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہے۔ وزیر اعظم کے مطابق گزشتہ دس برسوں میں بھارت اور یورپی یونین کے درمیان تجارت دوگنی ہو کر 180 بلین یورو تک پہنچ چکی ہے، جبکہ بھارت میں 6,000 سے زائد یورپی کمپنیاں سرگرم عمل ہیں اور بھارت کی تقریباً 1,500 کمپنیاں یورپی یونین میں کاروبار کر رہی ہیں۔ عالمی کاروباری ماحول پر بات کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ اس وقت دنیا بھر میں تجارتی نظام میں اتار چڑھاؤ پایا جاتا ہے اور کمپنیاں اپنی مارکیٹ حکمت عملی اور شراکت داریوں پر نظرِ ثانی کر رہی ہیں۔ ایسے حالات میں بھارت-یورپی یونین آزاد تجارتی معاہدہ عالمی بزنس برادری کے لیے ایک واضح اور مثبت پیغام ہے۔ انہوں نے بزنس لیڈروں پر زور دیا کہ وہ اس معاہدے سے پیدا ہونے والے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔
وزیر اعظم مودی نے بھارت اور یورپی یونین کی مشترکہ ترجیحات پر روشنی ڈالتے ہوئے تین اہم نکات پیش کیے۔ انہوں نے کہا کہ آج دنیا میں تجارت، ٹیکنالوجی اور اہم معدنی وسائل کو بطور ہتھیار استعمال کیا جا رہا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ دونوں خطے مل کر بیرونی انحصار کو کم کریں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا بزنس کمیونٹی مل کر الیکٹرک وہیکلز، بیٹریز، سیمی کنڈکٹر چپس اور اے پی آئیز میں خود کفالت کی سمت کام کر سکتی ہے اور قابلِ اعتماد سپلائی چین کا مشترکہ متبادل تیار کیا جا سکتا ہے۔
دوسری ترجیح کے طور پر وزیر اعظم نے دفاعی صنعت اور نئی ٹیکنالوجی کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت اور یورپی یونین دونوں دفاع، خلائی تحقیق، ٹیلی کام اور مصنوعی ذہانت جیسے شعبوں میں شراکت داری کو فروغ دے رہے ہیں۔ انہوں نے بزنس لیڈروں سے اپیل کی کہ ان شعبوں میں مشترکہ منصوبوں اور سرمایہ کاری کو بڑھایا جائے تاکہ اختراعات اور سلامتی دونوں کو تقویت ملے۔ تیسری اور اہم ترجیح کے طور پر وزیر اعظم نے صاف اور پائیدار مستقبل کو قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ گرین ہائیڈروجن، شمسی توانائی، اسمارٹ گرڈ، چھوٹے ماڈیولر ری ایکٹرز اور پائیدار نقل و حمل جیسے شعبوں میں مشترکہ تحقیق اور سرمایہ کاری کی اشد ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ پانی کے انتظام، سرکلر اکانومی اور پائیدار زراعت میں بھی مل کر حل تلاش کیے جانے چاہئیں۔ وزیر اعظم کے مطابق بھارت اور یورپی یونین کی یہ شراکت داری نہ صرف دونوں خطوں بلکہ پوری دنیا کے لیے ترقی اور استحکام کا نیا راستہ ہموار کر سکتی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

