احمد آباد: وزیراعظم نریندر مودی نے منگل کے روز گجرات کے شہر احمد آباد کے سَنند جی آئی ڈی سی علاقے میں 3,300 کروڑ روپے مالیت کے کین سیمی کنڈکٹر پلانٹ کا افتتاح کیا۔ یہ ملک کا دوسرا سیمی کنڈکٹر پلانٹ ہے اور اسے اس شعبے میں ایک بڑی کامیابی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ یہ منصوبہ ہندوستان کے سیمی کنڈکٹر مشن کے تحت ایک اہم قدم سمجھا جا رہا ہے، جس سے ملک میں چِپ سازی کی صلاحیت میں اضافہ ہوگا اور تکنیکی خود کفالت کو فروغ ملے گا۔
ٹیکنالوجی کے شعبے میں نیا دور
گجرات کے وزیر سائنس و ٹیکنالوجی ارجن مودھواڈیا نے اس موقع پر کہا کہ یہ پلانٹ روزانہ سات لاکھ سے زائد چپس تیار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ ہندوستان کے لیے ایک نئے تکنیکی دور کی شروعات ہے اور وزیراعظم کی اس حکمت عملی کا حصہ ہے جس کے تحت چیلنجز کو مواقع میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سیمی کنڈکٹر صنعت مستقبل کی اہم ترین صنعتوں میں شمار ہوتی ہے اور اس پلانٹ کے قیام سے ہندوستان عالمی سطح پر اپنی پوزیشن مضبوط کر سکے گا۔
سیمی کنڈکٹر مشن میں تیزی
اس سے قبل فروری میں وزیراعظم نریندر مودی نے مائیکرون سیمی کنڈکٹر پلانٹ کا بھی افتتاح کیا تھا۔ اس موقع پر انہوں نے اس بات پر زور دیا تھا کہ جون 2023 میں معاہدہ ہونے کے بعد صرف 900 دنوں میں اس منصوبے کو مکمل کر لیا گیا، جو کہ ترقی یافتہ ممالک کے مقابلے میں ایک بڑی کامیابی ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ جب نیت واضح ہو اور ملک کی ترقی مقصد ہو تو پالیسیاں اور فیصلے خود بخود رفتار پکڑ لیتے ہیں۔ اسی دوران وزیراعظم نے مہاویر جینتی کے موقع پر گاندھی نگر کے کوبا تیرتھ میں سمراٹ سمپرتی میوزیم کا بھی افتتاح کیا، جو جین مذہب کی تاریخی، ثقافتی اور روحانی وراثت کو اجاگر کرتا ہے۔ یہ پیش رفت ہندوستان کو سیمی کنڈکٹر صنعت میں خود کفیل بنانے اور عالمی ٹیکنالوجی میدان میں اس کی موجودگی کو مزید مضبوط کرنے کی جانب ایک اہم قدم قرار دی جا رہی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


