وزیر اعظم نریندر مودی۔
ایک وقت تھا جب ٹریکوما جیسی آنکھوں کی بیماری ہندوستان میں اندھے پن کی بڑی وجہ سمجھی جاتی تھی۔ گندگی اور علاج نہ ہونے کی وجہ سے یہ بیماری لاکھوں افراد کو متاثر کر رہی تھی۔ لیکن اب صورت حال بدل چکی ہے۔ ہندوستان نے برسوں کی محنت، بیداری اور صحت کی خدمات کے ذریعے اس بیماری کو پیچھے چھوڑ دیا۔ اس کی تصدیق خود ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (WHO) نے بھی کی ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی اس کامیابی کو کئی بار فخر کے ساتھ ملک کے سامنے پیش کر چکے ہیں۔ مانسون اجلاس سے قبل میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے بھی انھوں نے ایک بار پھر ٹریکوما پر ہندوستان کی جیت کو بڑی کامیابی قرار دیا۔
مانسون سیشن کے آغاز سے پہلے پی ایم مودی نے کہا کہ ’’ڈبلیو ایچ او نے کہا ہے کہ ہندوستان نے آنکھوں کی بیماری ٹریکوما سے خود کو آزاد کر لیا ہے۔ ہم نے صحت کے شعبے میں اچھا کام کیا ہے۔‘‘ اس سے پہلے بھی پی ایم مودی ’’من کی بات‘‘ پروگرام میں اس بارے میں بات کر چکے ہیں۔ 29 جون کو نشر ہونے والے اپنے مقبول ریڈیو پروگرام ’’من کی بات‘‘ میں انھوں نے اس کامیابی کا سہرا ملک کے ہیلتھ ورکرز، ڈاکٹروں اور بیدار شہریوں کو دیا اور کہا کہ یہ صحت کے تئیں ہندوستان کی عوامی شرکت اور عزم کا ثبوت ہے۔
انھوں نے کہا تھا کہ ’’ٹریکوما آنکھوں کی ایک سنگین متعدی بیماری ہے، جو عام طور پر گندگی، صفائی کی کمی اور بیکٹیریل انفیکشن کی وجہ سے پھیلتی ہے۔ یہ آنکھوں میں سوزش کا باعث بنتی ہے اور اگر بروقت علاج نہ کیا جائے تو اندھے پن کا سبب بھی بن سکتا ہے۔ ایک وقت تھا جب یہ بیماری ہندوستان میں بڑے پیمانے پر پھیلی ہوئی تھی، لیکن گزشتہ چند سالوں میں مرکزی اور ریاستی حکومتوں نے مل کر اس کے خاتمے کے لیے خصوصی مہم چلائی۔ اور ’’سوچھ بھارت مشن‘‘ اور ’’جل جیون مشن‘‘ جیسے قومی پروگراموں نے صفائی ستھرائی اور پینے کے صاف پانی تک رسائی کو بڑھا کر بیماری کو ختم کرنے میں بڑا کردار ادا کیا۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

