پی ایم مودی نے دہشت گردی پر ’زوردار ضرب‘ لگانے کیلئے فوج کو دی مکمل آزادی
نئی دہلی: پہلگام میں خوفناک دہشت گردانہ حملے کے بعد، وزیر اعظم نریندر مودی نے ایک ہنگامی اعلیٰ سطحی میٹنگ میں ملک کی سیکورٹی فورسز کو واضح ہدایات دیں – دہشت گردی کو اب مناسب اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔ مسلح افواج کی صلاحیت پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے پی ایم مودی نے انہیں جوابی کارروائی کا طریقہ، وقت اور ہدف طے کرنے کی مکمل آزادی دی ہے۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے کہا، ’’ہندوستان دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے پرعزم ہے‘‘۔ اس بیان سے صاف اشارہ ملتا ہے کہ اب بھارت دہشت گردی کے خلاف بڑے اور فیصلہ کن کارروائی کی تیاری کر رہا ہے۔
یہ میٹنگ ایک ایسے وقت میں ہوئی جب ملک ابھی تک پہلگام میں 26 بے گناہ لوگوں – جن میں زیادہ تر سیاح تھے – کے قتل کے درد سے اُبر نہیں پایا ہے۔ وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ، قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوول اور تینوں افواج کے سربراہان اس اسٹریٹجک میٹنگ میں موجود تھے، جسے سرکاری ذرائع نے ’انتہائی حساس اور غیر معمولی‘ قرار دیا۔
دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر ہوگی فیصلہ کن کارروائی
میٹنگ میں سرحد پار دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو ختم کرنے کی حکمت عملی پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ لشکر طیبہ سمیت پاکستان میں مقیم دہشت گرد تنظیموں کو نشانہ بنانے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔
حکومت نے سرحدوں پر فوج کو ہائی الرٹ رکھا ہوا ہے۔ لائن آف کنٹرول اور بین الاقوامی سرحد پر نگرانی بڑھا دی گئی ہے۔ پاک مقبوضہ کشمیر میں واقع دہشت گردوں کے لانچ پیڈز پر ڈرون، سیٹلائٹ اور الیکٹرانک انٹرسیپٹس کے ذریعے کڑی نظر رکھی جا رہی ہے۔
ہندوستان نے پہلگام حملے کے بعد پہلے ہی سخت اقدامات اٹھائے ہیں – جیسے سندھ آبی معاہدہ معطل کرنا اور پاکستانی شہریوں کے ویزے منسوخ کرنا۔ پی ایم مودی پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ ’’ہندوستان ہر دہشت گرد اور اس کے مددگاروں کو زمین کے آخری کونے تک ڈھونڈ نکالے گی‘‘۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
