نئی دہلی: بھارتی فلمی اور موسیقی دنیا کی نامور گلوکارہ سمن کلیان پور کے انتقال پر وزیر اعظم نریندر مودی نے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔ 89 سالہ گلوکارہ نے عمر سے متعلق صحت کے مسائل کے باعث اتوار کو ممبئی میں اپنی رہائش گاہ پر آخری سانس لی۔ ان کے انتقال سے بھارتی موسیقی کی ایک سنہری آواز ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گئی۔وزیر اعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ایکس” پر تعزیتی پیغام جاری کرتے ہوئے سمن کلیان پور کے ساتھ اپنی ایک تصویر بھی شیئر کی۔ انہوں نے لکھا، ’’معروف گلوکارہ سمن کلیان پور کے انتقال کی خبر سن کر انتہائی دکھ ہوا۔ ان کی سریلی آواز اور جذبات سے بھرپور گائیکی نے بھارتی موسیقی اور ثقافتی دنیا کو بے حد مالا مال کیا۔‘‘وزیر اعظم مودی نے مزید کہا کہ سمن کلیان پور نے اپنے لازوال نغموں کے ذریعے موسیقی کے شائقین اور بھارتی سنیما کے مداحوں کے دلوں میں ایک منفرد مقام حاصل کیا۔ انہوں نے مرحومہ کے اہل خانہ، چاہنے والوں اور مداحوں سے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے پرارتھا کی کہ بھگوان ان کی آتما کو شانتی دے ۔
بھارتی موسیقی کا ایک سنہرا باب اختتام پذیر
سمن کلیان پور کا شمار بھارتی موسیقی کی ان عظیم گلوکاراؤں میں ہوتا ہے، جنہوں نے فلمی موسیقی کے سنہرے دور کو اپنی آواز سے یادگار بنا دیا۔ ان کی گائیکی میں مٹھاس، نرمی اور جذبات کی گہرائی ایسی تھی، جس نے انہیں کروڑوں مداحوں کے دلوں میں جگہ دلائی۔ان کے انتقال کے بعد یکم جون کو ممبئی میں ان کی آخری رسومات ادا کی جائیں گی، جہاں موسیقی اور فلمی دنیا سے وابستہ شخصیات کے علاوہ بڑی تعداد میں مداحوں کی شرکت متوقع ہے۔
کئی لازوال نغموں کی آواز
سمن کلیان پور نے اپنے طویل کیریئر میں متعدد مقبول اور یادگار گیت گائے، جن میں ’’آج کل تیرے میرے پیار کے چرچے‘‘، ’’نا نا کرتے پیار تم ہی سے کر بیٹھے‘‘ اور ’’تم نے پکارا اور ہم چلے آئے‘‘ جیسے شہرۂ آفاق نغمے شامل ہیں۔ ان گیتوں نے انہیں بھارتی فلمی موسیقی کی صفِ اول کی گلوکاراؤں میں شامل کر دیا۔انہوں نے اپنے فنی سفر کا آغاز مراٹھی فلم ’’پسنت آہے ملگی‘‘ سے کیا تھا، جبکہ ان کا پہلا سپرہٹ مراٹھی گیت ’’بھاتکلیچیا کھل مانڈیلا‘‘ سمجھا جاتا ہے۔ 1960 اور 1970 کی دہائیاں ان کے کیریئر کا عروج ثابت ہوئیں، جب ان کی آواز ہر طرف گونجتی تھی۔
محمد رفیع کے ساتھ یادگار اشتراک
سمن کلیان پور نے ایک ایسے دور میں اپنی الگ شناخت بنائی جب لتا منگیشکر اور محمد رفیع بھارتی موسیقی کے سب سے بڑے نام تھے۔ محمد رفیع اور لتا منگیشکر کے درمیان بعض اختلافات کے دوران سمن کلیان پور نے رفیع کے ساتھ 140 سے زائد مقبول دوگانے ریکارڈ کیے، جو آج بھی موسیقی کے شائقین میں بے حد مقبول ہیں۔ان کی آواز کی خاص بات یہ تھی کہ اس میں لتا منگیشکر کی آواز سے حیرت انگیز مشابہت پائی جاتی تھی، جس کے باعث کئی مواقع پر سامعین دونوں کی آوازوں میں فرق نہیں کر پاتے تھے۔
سات سو سے زائد گیتوں کا ورثہ
سمن کلیان پور نے ہندی، مراٹھی اور دیگر زبانوں میں 740 سے زائد گیت گائے اور بھارتی موسیقی کو ایک قیمتی ورثہ عطا کیا۔ ان کی خدمات کے اعتراف میں انہیں مہاراشٹر حکومت سمیت مختلف ثقافتی اور موسیقی اداروں کی جانب سے متعدد اعزازات اور ایوارڈز سے نوازا گیا۔ان کے انتقال کے ساتھ ہی بھارتی موسیقی کا ایک روشن باب اختتام پذیر ہو گیا، لیکن ان کی سریلی آواز اور لازوال نغمے ہمیشہ موسیقی کے شائقین کے دلوں میں زندہ رہیں گے۔
بھرت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

