56ویں جی ایس ٹی کونسل اجلاس میں وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں حکومت نے اشیائے خوردونوش اور ضروری سامان پر جی ایس ٹی کی شرحیں 18 فیصد سے کم کر کے 5 فیصد کر دیں، جس پر گھریلو خواتین اور طلبا نے اظہارِ مسرت کرتے ہوئے وزیر اعظم کا شکریہ ادا کیا ہے۔ علی گڑھ کی رہائشی خاتون سواتی گپتا نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’’نوراتری کے موقع پر جی ایس ٹی میں کمی کا فیصلہ بہت اچھا ہے۔ اب کھانے پینے کی اشیاء پر جی ایس ٹی 18 فیصد سے گھٹا کر 5 فیصد کر دیا گیا ہے۔‘‘ انھوں نے یہ بھی کہا کہ اب ہیلتھ انشورنس پر بھی جی ایس ٹی ختم کر دیا گیا ہے۔ ’’پہلے 20 ہزار روپے کے انشورنس پر ہمیں 3600 روپے جی ایس ٹی دینا پڑتا تھا، اب کچھ بھی نہیں دینا ہوگا۔ یہ خواتین کے لیے بہت بڑا فائدہ ہے۔‘‘
ایک اور خاتون نے باورچی خانے کے برتنوں پر جی ایس ٹی میں کمی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’’گیس سلنڈر، کچن کے برتنوں، نمکین، بسکٹ، پینسل اور ربڑ جیسی چیزوں پر ٹیکس کم ہوا ہے، جس سے ہمیں 13 فیصد تک بچت ہوگی۔‘‘ دریں اثنا طلبا نے بھی اس فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔ ایک طالب علم گووند گپتا نے کہا کہ ’’پہلے اسکول فیس اور ناشتہ کا خرچ 118 روپے تھا، اب یہ کم ہوکر 105 روپے رہ جائے گا۔ پینسل، ایریزر پر بھی جی ایس ٹی کم ہوا ہے۔‘‘ ایک اور طالب علم نے کہا کہ ’’اب ہم 13 فیصد کی بچت کر سکیں گے۔ حکومت نے نمکین، بسکٹ، ربڑ اور پینسل پر جی ایس ٹی کم کیا ہے، جو بچوں کے لیے خوش آئند ہے۔‘‘
دوسری جانب وزیر مملکت برائے خزانہ پنکج چودھری نے کہا کہ جی ایس ٹی کے نئے ڈھانچے سے عام آدمی، چھوٹے تاجروں اور MSMEs کو فائدہ ہوگا۔ انھوں نے کہا کہ ’’پہلے چار سلیب تھے — 5%, 12%, 18%, 28% —اب صرف دو سلیب (5% اور 18%) ہوں گے، جس سے سادگی اور شفافیت آئے گی۔‘‘ نئے 5 فیصد سلیب میں ضروری اشیاء شامل ہیں جیسے کہ گھی، پنیر، پیک شدہ نمکین، برتن، زرعی آلات، سلائی مشینیں، طبی آلات وغیرہ۔ وہیں 18 فیصد سلیب میں گاڑیاں، الیکٹرانکس اور دیگر خدمات شامل ہیں، جب کہ 40 فیصد شرح اب بھی لگژری اور سگریٹ جیسے مصنوعات پر برقرار ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


