نئی دہلی: وزیراعظم نریندر مودی نے اپنے ریڈیو پروگرام من کی بات کے 133ویں ایپی سوڈ میں گجرات کے کَچھ علاقے میں آنے والے فلیمنگو پرندوں اور ان کے تحفظ پر تفصیل سے گفتگو کی۔ انہوں نے کَچھ کے رن کو ’’فلیمنگو سٹی‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ علاقہ ہر سال لاکھوں پرندوں کی آمد سے گلابی رنگ میں رنگ جاتا ہے۔ وزیراعظم نے بتایا کہ جیسے ہی مانسون ختم ہوتا ہے، رن آف کَچھ کی زمین زندہ ہو اٹھتی ہے اور لاکھوں فلیمنگو پرندے یہاں آتے ہیں۔ یہ پرندے نہ صرف یہاں بسیرا کرتے ہیں بلکہ اپنے گھونسلے بنا کر بچوں کی پرورش بھی کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مقامی لوگ ان پرندوں کو محبت سے ’’لاکھا جی کے باراتی‘‘ کہتے ہیں، اور اب یہ پرندے ماحولیاتی تحفظ کی ایک خوبصورت علامت بن چکے ہیں۔
ماحولیات اور حیاتیاتی تنوع کا پیغام
وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ فلیمنگو جیسے پرندے قدرتی توازن برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اور ان کا تحفظ ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے قدرتی مقامات نہ صرف حیاتیاتی تنوع کو فروغ دیتے ہیں بلکہ سیاحت اور مقامی معیشت کے لیے بھی فائدہ مند ہیں۔ اپنے خطاب میں نریندر مودی نے شمال مشرقی ہندوستان کو ’’اشٹ لکشمی‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ خطہ قدرتی خوبصورتی اور صلاحیتوں سے بھرپور ہے۔ انہوں نے بانس کی صنعت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جو چیز کبھی بوجھ سمجھی جاتی تھی، آج روزگار، کاروبار اور جدت کا ذریعہ بن چکی ہے، خاص طور پر خواتین کے لیے۔
انسان اور جنگلی حیات کے درمیان ہم آہنگی
وزیراعظم نے چھتیس گڑھ سے آنے والی ایک مثبت خبر کا بھی ذکر کیا، جہاں کالے ہرن (بلیک بک) کی تعداد میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلسل کوششوں کے نتیجے میں اب یہ نایاب جانور دوبارہ کھلے میدانوں میں نظر آرہے ہیں۔ انہوں نے اتر پردیش کے ترائی علاقے کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں فصل کٹائی کے دوران ہاتھیوں کے جھنڈ دیہات کے قریب آ جاتے ہیں، جس سے تصادم کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ تاہم، ’’گج متر‘‘ جیسی پہل نے انسان اور جنگلی حیات کے درمیان ہم آہنگی قائم کرنے میں مدد دی ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی نے اپنے خطاب میں ماحولیاتی تحفظ، جنگلی حیات کے تحفظ اور پائیدار ترقی کے پیغام کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ قدرتی وسائل کی حفاظت ہی مستقبل کی ضمانت ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔





