وزیر اعظم نریندر مودی نے ہفتے کے روز گجرات کے بھاونگر میں ایک جلسۂ عام سے خطاب کرتے ہوئے کانگریس کی معاشی پالیسیوں پر شدید تنقید کی اور انھیں بھارت کی ترقی میں رکاوٹ قرار دیا۔ انھوں نے کہا کہ کانگریس نے آزادی کے بعد ملک کی صلاحیتوں کو نظر انداز کیا، جس کے نتیجے میں بھارت اپنی ممکنہ ترقی حاصل نہ کر سکا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ’’بھارت میں کسی چیز کی کمی نہیں تھی، مگر آزادی کے بعد کانگریس نے ملک کی صلاحیتوں کو پہچانا ہی نہیں۔ اسی لیے 6-7 دہائیاں گزرنے کے باوجود ہم وہ مقام حاصل نہ کر سکے جس کے ہم حق دار تھے۔‘‘
وزیر اعظم نے کہا کہ پہلے لائسنس-کوٹہ راج نے بھارت کو عالمی منڈی سے دور رکھا اور جب بازار کھولا گیا تو کانگریس نے صرف درآمدات پر انحصار کیا، جس سے خود کفالت کا خواب پیچھے رہ گیا۔ وزیر اعظم نے یو پی اے حکومت کے دور میں ہوئے گھوٹالوں کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ لاکھوں کروڑوں کے اسکینڈل ہوئے جنھوں نے ملک کے نوجوانوں کا بھاری نقصان کیا۔ انھوں نے کہا کہ ’’یہی پالیسیاں تھیں جنھوں نے بھارت کی اصل طاقت کو دبائے رکھا اور دنیا کے سامنے ہمارا اصل چہرہ نہیں آنے دیا۔‘‘
وزیر اعظم مودی نے کہا کہ ’’دنیا میں بھارت کا کوئی بڑا دشمن نہیں ہے۔ اگر کوئی دشمن ہے، تو وہ ہے دوسروں پر ہماری نربھرتا (انحصار)۔ ہمیں اس دشمن کو شکست دینی ہے۔‘‘ پی ایم مودی نے زور دیا کہ بھارت کو ایک ’آتم نربھر‘ ملک بنانا وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے، تاکہ 140 کروڑ ہندوستانیوں کا مستقبل محفوظ اور باعزت ہو۔ انھوں نے مزید کہا کہ ’’جتنا زیادہ بیرونی انحصار ہوگا، اتنی ہی زیادہ ناکامی ہوگی۔ خود انحصاری ہی ہماری خودداری کی ضمانت ہے۔‘‘ وزیر اعظم نے توانائی کے شعبے میں خود انحصاری کی کوششوں کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ ’’ہم خام تیل اور گیس کے لیے بیرونی ممالک پر انحصار کرتے تھے، جس کی وجہ سے ہماری دولت باہر جا رہی تھی۔ ہم نے اس صورت حال کو بدلنے کا فیصلہ کیا ہے۔‘‘
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



