ڈیجیٹل دنیا میں برسوں سے پاس ورڈ ہماری آن لائن شناخت کی بنیاد رہے ہیں، لیکن اب یہ نظام تیزی سے تاریخ بنتا جا رہا ہے۔ گوگل اور مائیکروسافٹ جیسی عالمی ٹیکنالوجی کمپنیاں ایک نئی اور جدید ٹیکنالوجی متعارف کرا رہی ہیں جسے پاسکی کہا جا رہا ہے۔ اس نظام کے تحت صارفین کو پاس ورڈ یاد رکھنے یا ٹائپ کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی، بلکہ ان کا چہرہ، انگوٹھا یا ڈیوائس ہی اکاؤنٹ تک رسائی کی کنجی بن جائے گا۔ آج کے دور میں ایک عام صارف درجنوں ایپس اور ویب سائٹس استعمال کرتا ہے۔ ہر اکاؤنٹ کے لیے الگ پاس ورڈ یاد رکھنا نہ صرف مشکل ہے بلکہ اکثر لوگ آسان پاس ورڈ رکھ کر خود کو سائبر حملوں کے خطرے میں ڈال دیتے ہیں۔ دوسری طرف، مضبوط پاس ورڈ یاد رکھنا بھی ایک بڑا مسئلہ بن چکا ہے۔ اسی پریشانی کو ختم کرنے کے لیے ٹیکنالوجی کمپنیاں پاس ورڈ سے آگے بڑھ کر پاسکی نظام پر زور دے رہی ہیں۔
پاسکی کیا ہے؟
پاسکی دراصل ایک جدید لاگ اِن طریقہ ہے جس میں آپ کا موبائل فون، لیپ ٹاپ یا ٹیبلیٹ ہی آپ کی شناخت بن جاتا ہے۔ جیسے آپ اپنے فون کو فنگر پرنٹ یا فیس آئی ڈی کے ذریعے کھولتے ہیں، اسی طرح آپ ای میل، سوشل میڈیا یا بینک اکاؤنٹ میں لاگ اِن کر سکیں گے۔ ماہرین کے مطابق یہ نظام روایتی پاس ورڈ کے مقابلے میں زیادہ محفوظ ہے، کیونکہ اسے فشنگ یا جعلی ویب سائٹس کے ذریعے چرا پانا تقریباً ناممکن ہوتا ہے۔
کہاں آ سکتی ہیں مشکلات؟
اگرچہ یہ ٹیکنالوجی سننے میں نہایت آسان اور محفوظ لگتی ہے، لیکن بھارت جیسے ملک میں اس کے نفاذ کے دوران کئی عملی مسائل سامنے آ سکتے ہیں۔ مغربی ممالک میں عام طور پر ہر فرد کے پاس ذاتی فون ہوتا ہے، جبکہ بھارت میں آج بھی ایک ہی موبائل پورا خاندان استعمال کرتا ہے۔ سب سے پہلی مشکل فون شیئرنگ کی عادت ہے۔ اگر پاسکی مکمل طور پر بایومیٹرک ڈیٹا پر منحصر ہوئی تو ایک ہی فون پر مختلف افراد کے اکاؤنٹس تک رسائی مشکل ہو سکتی ہے۔ دوسری بڑی تشویش فون کے گم یا خراب ہونے کی صورت میں اکاؤنٹ ریکوری کی ہے۔ اب تک صارف کسی دوسرے فون یا کمپیوٹر سے پاس ورڈ ڈال کر اکاؤنٹ واپس حاصل کر لیتا تھا، لیکن پاسکی چونکہ ڈیوائس میں محفوظ ہوتی ہے، اس لیے فون کھو جانے پر اکاؤنٹ کی واپسی ایک بڑا چیلنج بن سکتی ہے۔
سیکنڈ ہینڈ فون اور سم کی تبدیلی
بھارت میں لوگ اکثر پرانا فون بیچ کر نیا لیتے ہیں یا سم کارڈ تبدیل کرتے رہتے ہیں۔ ایسے میں پاسکی کو ایک ڈیوائس سے دوسری ڈیوائس میں محفوظ اور آسان طریقے سے منتقل کرنا بھی ایک اہم تکنیکی مسئلہ ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اس کا واضح حل نہ نکالا گیا تو عام صارفین کے لیے یہ نظام الجھن کا سبب بن سکتا ہے۔
آگے کا راستہ کیا ہے؟
اس میں کوئی شک نہیں کہ پاسکی مستقبل کی ٹیکنالوجی ہے۔ گوگل نے تو اسے اپنے پلیٹ فارمز پر ڈیفالٹ لاگ اِن طریقہ بنانے کی سمت قدم بڑھا دیا ہے۔ تاہم بھارت جیسے متنوع ملک میں مکمل کامیابی کے لیے ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اکاؤنٹ ریکوری، فون شیئرنگ اور ڈیٹا ٹرانسفر جیسے مسائل پر مزید کام کرنا ہوگا۔ ماہرین کے مطابق جب تک یہ مسائل حل نہیں ہوتے، تب تک پاس ورڈ مکمل طور پر ختم ہونا مشکل نظر آتا ہے، لیکن یہ طے ہے کہ ڈیجیٹل دنیا ایک بڑی تبدیلی کے دہانے پر کھڑی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
