دہلی سےمغربی بنگال کے باگڈوگرا جا رہی انڈیگو ایئرلائنز کی ایک پرواز میں بم کی اطلاع ملنے سے ہلچل مچ گئی۔ 18 جنوری 2026 کو انڈیگو کی فلائٹ نمبر 6E-6650 دہلی سے روانہ ہوئی تھی کہ دوران پرواز بم ہونے کی اطلاع سامنے آئی۔ صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے صبح 9 بج کر 17 منٹ پر طیارے کی لکھنؤ ایئرپورٹ پر ہنگامی لینڈنگ کرائی گئی۔ ابتدائی معلومات کے مطابق طیارے کے باتھ روم میں ٹشو پیپر پر لکھا ہوا ایک پیغام ملا، جس میں فلائٹ میں بم ہونے کا ذکر تھا۔ ایک مسافر کی نظر اس ٹشو پیپر پر پڑی تو اس نے فوراً کیبن کریو کو آگاہ کیا۔ اس کے بعد پائلٹ نے ایئر ٹریفک کنٹرول سے رابطہ کر کے ہنگامی لینڈنگ کی اجازت طلب کی۔ اجازت ملتے ہی طیارے کو لکھنؤ ایئرپورٹ کی طرف موڑ دیا گیا۔
لکھنؤ ایئرپورٹ پر لینڈنگ کے فوراً بعد سیکورٹی ایجنسیاں حرکت میں آ گئیں۔ سی آئی ایس ایف، بم ناکارہ بنانے والا دستہ اور دیگر سیکورٹی ٹیموں نے طیارے کو گھیرے میں لے لیا اور مکمل تلاشی مہم شروع کر دی۔ طیارے میں موجود ہر کونے، نشست اور سامان کی باریک بینی سے انچ کی جا رہی ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے کو مکمل طور پر ختم کیا جا سکے۔فلائٹ میں کل 230 مسافر سوار تھے، جن میں 8 بچے بھی شامل تھے۔ اس کے علاوہ 6 کیبن کریو ممبران اور 2 پائلٹس سمیت مجموعی طور پر 238 افراد طیارے میں موجود تھے۔ سیکیورٹی جانچ کے بعد تمام مسافروں کو بحفاظت طیارے سے اتار لیا گیا۔ مسافروں اور ان کے سامان کی اسکیننگ کے بعد انہیں ایئرپورٹ کے محفوظ حصے میں منتقل کر دیا گیا۔ حکام کے مطابق تمام مسافر محفوظ ہیں اور کسی کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔
واضح رہے کہ اس سے قبل بھی لکھنؤ ایئرپورٹ پر ہنگامی لینڈنگ کے واقعات پیش آ چکے ہیں۔ 7 نومبر 2025 کو خراب موسم کے باعث انڈیگو کی تین پروازوں کو لکھنؤ میں اتارا گیا تھا۔ اس کے علاوہ 30 اکتوبر 2024 کو بھی انڈیگو کی دو پروازوں کو بم کی دھمکی موصول ہوئی تھی، قابل ذکر بات یہ ہےکہ اس وقت تلاشی کے دوران کوئی مشتبہ چیز برآمد نہیں ہوئی تھی۔فی الحال حکام اس تازہ واقعے کی مکمل تحقیقات کر رہے ہیں اور یہ جاننے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ بم کی اطلاع محض افواہ تھی یا اس کے پیچھے کوئی شرپسند ذہن کارفرما تھا۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
