جنوبی کشمیر کے علاقوں میں اب تک ایک درجن افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ان سے پوچھتاچھ کیلئے سیکورٹی فورسز نے انہیں حراست میں لیا گیا ہے۔ پہلگام حملے کے بعد سیکورٹی سخت کی جاچکی ہے اورآرمی،فوج اور جموں کشمیر پولیس کی مشترکہ سرچ آپریشن حملے کے بعد سے ہی چلائی جارہی ہے اور حملے کے معاونین کی گرفت کیلئے اب پوچھتاچھ کا سہارا لیا جارہا ہے اورخبر ہے کہ اب تک بڑی تعداد میں لوگوں کوجنوبی کشمیر کے کئی علاقوں سے حراست میں لیا گیا ہے اور ان تمام سے پوچھ گچھ کی جارہی ہے۔
واضح رہے کہ کشمیر کی خوبصورت وادی پہلگام میں انسانیت کو شرمسار کردینے والی دہشت گردانہ حرکت نے پورے ملک اور عالمی برادری کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ یہ حملہ جنوبی کشمیر کے اننت ناگ ضلع میں واقع پہلگام کے بائیسران علاقے میں پیش آیاتھا، جہاں دہشت گردوں نے سیاحوں پر اندھا دھند فائرنگ کی۔ اس حملے میں کم از کم 26 افراد ہلاک ہوئے، جن میں زیادہ تر سیاح تھے، جبکہ متعدد زخمی بھی ہوئے۔ حملے کے فوراً بعد بھارتی فوج اور جموں و کشمیر پولیس نے مشترکہ طور پر علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور دہشت گردوں کی تلاش کے لیے ایک بڑا سرچ آپریشن شروع کیا۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے اس حملے کی سخت مذمت کی اور سعودی عرب کا دورہ مختصر کر کے واپس بھارت لوٹ آئے تاکہ صورتحال کا جائزہ لے سکیں۔
ادھر دوسری جانب پہلگام حملے کے بعد ہندوستان پاکستان کے خلاف بڑے ایکشن کی تیاری کررہا ہے ۔آج شام سی سی ایس کی اہم میٹنگ ہونے جارہی ہے جس میں ذرائع سے ملی جانکاری کے مطابق کچھ سخت فیصلے لئے جاسکتے ہیں ۔ان میں سب سے بڑا فیصلہ پاکستان سے سفارتی تعلقات کو پوری طرح سے ختم کرنا اور عالمی سطح پر پاکستان کو بے نقاب کرنے کا منصوبہ شامل ہوسکتا ہے۔ ذرائع کے مطابق آج شام میں حکومت یہ فیصلہ کرسکتی ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ سفارتی تعلقات مجموعی طور پر ختم کررہا ہے اور اسلام آباد میں واقع ہندوستانی ہائی کمیشن کو بند کررہا ہے ،علاوہ ازیں دہلی میں واقع پاکستانی ہائی کمیشن میں تالے لگائے جارہے ہیں اور اسٹاف کو واپس پاکستان بھیجا جارہا ہے۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



