پہلگام دہشت گردانہ حملے میں شامل عادل کی ماں نے فوج سے بڑی اپیل کی ہے۔
Pahalgam Terror Attack: جموں وکشمیر کے پہلگام حملے میں شامل دہشت گرد عادل حسین تھوکر کی ماں شہزادی بانو نے کہا ہے کہ اگر اس کا بیٹا اس میں شامل ہے تواس کا انکاؤنٹر کردینا چاہئے۔ انہوں نے کہا، ”اگرعادل کا رول اس دہشت گردانہ حملے میں ہے تو فوج کواختیارہے کہ وہ جو چاہے وہ کرے۔ انکاؤنٹرکرنا چاہے توانکاؤنٹر کرے۔” انہوں نے کہا، ”فورسیز کو اسی جگہ پر عادل کا انکاؤنٹر کردینا چاہئے تھا، اگروہ وہاں پرتھا۔”
2018 میں عادل گھرسے چلاگیا: ماں کا دعویٰ
شہزادی بانو نے کہا، ”سال 2018 میں عادل یہاں سے چلا گیا اور کبھی واپس نہیں آیا۔ اس کے بعد سے میری بات بھی نہیں ہوئی۔ عادل سے کہوں گی کہ اگر وہ زندہ ہے تو وہ سرینڈر کرے کیونکہ اس کی وجہ سے ہمیں تکلیف ہو رہی ہے۔ ” انہوں نے کہا کہ کل شام سیکورٹی فورسیز کے لوگ میرے پاس آئے تھے، انہوں نے مجھے ایک تصویر دکھائی، لیکن میں نے انہیں بتایا کہ یہ عادل نہیں ہے۔ جمعرات-جمعہ کی درمیانی رات میں سیکورٹی اہلکاروں کے آپریشن کے دوران پہلگام حملے میں شامل عادل اور ایک دیگر دہشت گرد کے گھروں میں دھماکہ ہوا۔
عادل حسین تھوکر اور آصف شیخ کا گھرمنہدم
افسران نے کہا، ”سیکورٹی اہلکارلشکرطیبہ کے دودہشت گردوں عادل حسین تھوکراورآصف شیخ کے مکانوں میں تلاشی لے رہے تھے، تبھی وہاں پہلے سے رکھے دھماکہ خیزاشیاء میں دھماکہ ہوگیا۔ دھماکوں کی وجہ سے مکان منہدم ہوگئے۔”
جنوبی کشمیر کے اننت ناگ ضلع کا باشندہ عادل حسین تھوکر منگل کو پہگام میں کئے گئے دہشت گردانہ حملے کے اہم ملزمین میں شامل ہے۔ پلوامہ ضلع کے ترال باشندہ شیخ کے بھی حملے کی سازش میں شامل ہونے کا خدشہ ہے۔ 22 اپریل کو پہلگام میں ہوئے دہشت گردانہ حملے میں 26 افراد کی موت ہوگئی تھی۔ اس کے بعد سے ہی سیکورٹی اہلکار دہشت گردوں کی تلاش میں مصروف ہیں۔ بڑے پیمانے پر کشمیر میں آپریشن چلایا جا رہا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


