نئی دہلی: سعودی عرب میں ریاض کے کنگ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ہوئے حملے میں ایک ہندوستانی شہری کی موت ہو گئی ہے، جب کہ 3 دیگر ہندوستانی شہری انتہائی نگہداشت یونٹ (آئی سی یو) میں زیر علاج ہیں۔ ہندوستانی سفارت خانے کے مطابق، آئی سی یو میں داخل تینوں زخمیوں کی حالت فی الحال مستحکم ہے۔ سفارت خانے کے افسران نے ان تمام اسپتالوں کا دورہ کیا ہے، جہاں حملے میں زخمی ہندوستانیوں کو داخل کرایا گیا ہے۔سعودی عرب میں ہندوستانی سفارت خانے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ حملے میں زخمی ہونے والے ہندوستانی شہریوں کو طبی امداد فراہم کرنے والے تمام اسپتالوں کا دورہ کیا گیا ہے۔ بیان کے مطابق، ایک ہندوستانی شہری کی موت ہو گئی، جبکہ 3 زخمی آئی سی یو میں اور 2 دیگر عام وارڈ میں داخل ہیں۔ باقی زخمیوں کو اسپتال سے چھٹی دے دی گئی ہے۔سفارت خانے نے زخمی ہندوستانی شہریوں کو بہتر طبی سہولتیں فراہم کرنے کے لیے سعودی حکام کا شکریہ ادا کیا اور متاثرہ خاندانوں کو یقین دلایا کہ انہیں ہر ممکن مدد فراہم کی جائے گی۔
Embassy of India, Riyadh has been following up on the dastardly attack on Riyadh airport yesterday in which 12 people unfortunately died and more than 300 were injured.
It is learnt that 11 Indians are among those injured in the attack. Embassy has been in touch with local authorities to enquire about their well being. Our officials have also reached out to the hospital authorities. We will provide further updates as they become available.
@MEAIndia
— India in Saudi Arabia (@IndianEmbRiyadh) October 11, 2026
حیدرآباد کے محمد یوسف علی کی دورانِ علاج موت
ریاض کے کنگ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ہوئے حملے میں حیدرآباد کے رہنے والے محمد یوسف علی زخمی ہو گئے تھے۔ بعد میں ریاض کے ایک اسپتال میں علاج کے دوران ان کی موت ہو گئی۔ اس حملے میں ان کے خاندان کے تین افراد بھی زخمی ہوئے ہیں۔رکن پارلیمنٹ اسدالدین اویسی نے اتوار کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر محمد یوسف علی کی موت کی تصدیق کی۔ انہوں نے بتایا کہ یوسف علی کے ایک بیٹے کے گھٹنے کی سرجری جاری ہے، جب کہ دوسرے بیٹے کے پاؤں کی تین انگلیاں کاٹنی پڑی ہیں۔اویسی کے مطابق، یوسف علی کی اہلیہ اور بیٹی محفوظ ہیں۔ ان کے ساتھ موجود ایک چچی کے سر میں چوٹ آئی تھی، اب ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی جا رہی ہے۔
🇾🇪🇸🇦 Shocking footage captures the moment Yemen’s Ansarullah forces struck Riyadh’s airport in Saudi Arabia yesterday.
Saudi authorities say that strike killed at least 12 people and injured more than 300, forcing the airport to suspend operations.
Writer: Sol
https://t.co/xFcoOECzXX— Mario Nawfal (@MarioNawfal) October 11, 2026
ہندوستانی سفارت خانہ متاثرہ خاندان کے رابطے میں
اسدالدین اویسی نے بتایا کہ وہ ریاض میں یوسف علی کے سالے سے رابطے میں ہیں۔ ان کے مطابق، ہندوستانی سفارت خانے کے نائب سربراہ نے متاثرہ خاندان کو ہر ممکن مدد فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔اویسی نے وزیر خارجہ ایس جے شنکر سے بھی اپیل کی کہ وہ متاثرہ خاندان کی مدد کے لیے ضروری اقدامات کریں۔ریاض میں ہندوستانی سفارت خانے نے بھی ایک شہری کی موت کی تصدیق کرتے ہوئے غم زدہ خاندان سے تعزیت کا اظہار کیا ہے۔ سفارت خانے نے کہا کہ وہ اہل خانہ کے رابطے میں ہے اور میت کو جلد از جلد ہندوستان بھیجنے کے لیے ہر ممکن مدد فراہم کرے گا۔
وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے اظہارِ افسوس کیا
وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے بھی اس واقعے پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاض میں ہوئے حملے میں ایک ہندوستانی شہری کی موت سے انہیں شدید صدمہ پہنچا ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ ہندوستانی سفارت خانہ متاثرہ خاندان کو ہر ممکن مدد فراہم کرے گا۔
حملے میں 12 افراد کی موت، 300 سے زائد زخمی ہونے کی اطلاع
رپورٹ کے مطابق، کنگ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ہوئے حملے میں 12 افراد کی موت ہوئی تھی، جب کہ 300 سے زائد افراد زخمی ہوئے تھے۔ زخمیوں میں 11 ہندوستانی شہری بھی شامل تھے۔ہندوستانی سفارت خانہ مقامی انتظامیہ اور اسپتالوں کے حکام کے مسلسل رابطے میں ہے اور زخمی ہندوستانیوں کی صحت سے متعلق صورت حال پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ابتدائی اطلاعات کے مطابق، ہلاک ہونے والوں میں سعودی عرب کے 4، بنگلہ دیش کے 2 اور فلسطین، امریکہ، مصر، اردن، شام اور سوڈان کے ایک ایک شہری شامل تھے۔ سعودی عرب نے اس حملے کے لیے حوثی باغیوں کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



