Bharat Express DD Free Dish

Oman India Gulf West Asia Gateway: عمان، بھارت کے لیے خلیج اور مغربی ایشیا کا اہم اسٹریٹجک گیٹ وے

بھارت اور عمان کے درمیان جامع اقتصادی شراکت داری معاہدہ (سی اے پی اے) طے پانے کے ساتھ دونوں ممالک کے تجارتی تعلقات میں ایک نئے دور کا آغاز ہو گیا ہے۔ یہ معاہدہ نہ صرف صدیوں پر محیط تاریخی اور تجارتی رشتوں کو مضبوط کرتا ہے بلکہ خلیجی خطے میں بھارت کے لیے نئی برآمدی منڈیوں کے دروازے بھی کھولتا ہے، جو اقتصادی اور تزویراتی دونوں لحاظ سے انتہائی اہم سمجھی جا رہی ہیں۔

نئی دہلی: بھارت اور عمان کے درمیان جامع اقتصادی شراکت داری معاہدہ (سی اے پی اے) طے پانے کے ساتھ دونوں ممالک کے تجارتی تعلقات میں ایک نئے دور کا آغاز ہو گیا ہے۔ یہ معاہدہ نہ صرف صدیوں پر محیط تاریخی اور تجارتی رشتوں کو مضبوط کرتا ہے بلکہ خلیجی خطے میں بھارت کے لیے نئی برآمدی منڈیوں کے دروازے بھی کھولتا ہے، جو اقتصادی اور تزویراتی دونوں لحاظ سے انتہائی اہم سمجھی جا رہی ہیں۔ بھارت اور عمان کے تعلقات کی خاص بات یہ ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی برادریوں کی موجودگی دو سے تین سو برس پر محیط رہی ہے۔ سی اے پی اے اسی تاریخی پس منظر پر استوار ہے اور توقع کی جا رہی ہے کہ اس سے دوطرفہ اقتصادی روابط نہ صرف وسیع ہوں گے بلکہ گہرے بھی ہوں گے۔ یہ معاہدہ بھارت کی اس وسیع تر تجارتی حکمت عملی کا حصہ ہے جس کے تحت وہ اپنی برآمدات کو چند مخصوص خطوں تک محدود رکھنے کے بجائے نئی منڈیوں تک پھیلانا چاہتا ہے۔

بھارت عمان کو محض ایک تجارتی شراکت دار نہیں بلکہ مغربی ایشیا اور افریقہ تک رسائی کے ایک اسٹریٹجک گیٹ وے کے طور پر دیکھتا ہے۔ دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات 1955 میں قائم ہوئے، 1972 میں فوجی تعاون کا معاہدہ ہوا، 2008 میں اسٹریٹجک شراکت داری بنی اور 2010 میں عمان-انڈیا جوائنٹ انویسٹمنٹ فنڈ قائم کیا گیا۔ موجودہ وقت میں دوطرفہ تجارت کا حجم 10.61 ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے، جس میں بھارتی برآمدات 4.07 ارب ڈالر ہیں، جو عمان کی کل درآمدات کا تقریباً 10 فیصد بنتی ہیں۔ سی اے پی اے کی سب سے بڑی تجارتی اہمیت ٹیرف میں بڑے پیمانے پر نرمی ہے۔ عمان نے اپنی 98 فیصد سے زائد ٹیرف لائنز پر زیرو ڈیوٹی رسائی دینے پر اتفاق کیا ہے، جس سے بھارت کی تقریباً تمام برآمدات مستفید ہوں گی۔ اس سے خاص طور پر محنت طلب شعبوں جیسے ٹیکسٹائل، جواہرات و زیورات، لیدر، جوتے، کھیلوں کا سامان، پلاسٹک، فرنیچر اور زرعی مصنوعات کو فائدہ ہوگا، جبکہ انجینئرنگ اشیا، دواسازی، طبی آلات اور آٹوموبائل جیسے ٹیکنالوجی پر مبنی شعبے بھی مضبوط ہوں گے۔

معاہدے میں نان ٹیرف رکاوٹوں کو کم کرنے پر بھی زور دیا گیا ہے، جس سے بھارتی دواساز کمپنیوں کو فائدہ پہنچے گا۔ جی ایم پی سرٹیفکیشن کی قبولیت سے وقت اور لاگت دونوں میں کمی آئے گی۔ اسی طرح خوراکی مصنوعات کے لیے باہمی تسلیم شدہ معیارات اور تعاون سے بھارت کی زرعی اور فوڈ ایکسپورٹس کو نئی رفتار ملنے کی امید ہے، خاص طور پر اس لیے کہ عمان اپنی تقریباً 90 فیصد غذائی ضروریات درآمد کرتا ہے۔ سروسز کے شعبے میں بھی اس معاہدے کو ایک بڑا موقع قرار دیا جا رہا ہے۔ عمان نے پہلی بار موڈ-4 کے تحت بھارتی پیشہ ور افراد کے لیے کوٹے میں اضافہ اور قیام کی مدت میں نرمی کی ہے، جس سے اکاؤنٹنسی، ٹیکسیشن، آرکیٹیکچر اور طبی خدمات جیسے شعبوں میں بھارتی ماہرین کو سہولت ملے گی۔ سماجی تحفظ سے متعلق بات چیت کے امکانات بھی روشن ہوئے ہیں۔

سرمایہ کاری کے میدان میں بھی سیپا کے مثبت اثرات متوقع ہیں۔ عمان میں پہلے ہی سات لاکھ کے قریب بھارتی آباد ہیں اور چھ ہزار سے زائد بھارتی کمپنیاں سرگرم ہیں۔ عمان کا وژن 2040، جس کا مقصد تیل پر انحصار کم کرنا ہے، بھارتی کمپنیوں کے لیے انفراسٹرکچر، قابلِ تجدید توانائی، آئی ٹی، صحت اور گرین ہائیڈروجن جیسے شعبوں میں بڑے مواقع فراہم کرتا ہے۔ مجموعی طور پر بھارت-عمان سی اے پی اے ایک متوازن معاہدہ ہے، جو ایک طرف کھلے پن کو فروغ دیتا ہے تو دوسری طرف بھارت کے حساس شعبوں کو تحفظ بھی فراہم کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ معاہدہ بھارت کو خلیجی خطے کی ابھرتی ہوئی اقتصادی ساخت میں مزید مضبوطی سے جوڑنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read