وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے جمعہ کے روز کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی ہمیشہ شمال مشرقی خطہ کو ’’اشٹ لکشمی‘‘ کہتے ہیں اور یہاں ہر چیز وافر مقدار میں موجو ہے، جیسے کہ اچھے طبیعت کے لوگ، قدرتی وسائل، ثقافتی فراوانی، اسٹریٹجک محل وقوع اور توانا نوجوان۔ اسی وجہ سے یہ خطہ ترقی یافتہ ہندوستان 2047 ویژن میں بڑا حصہ ڈالے گا۔
آئی آئی ایم شیلانگ میں آئی آئی سی اے نارتھ ایسٹ کنکلیو 2025 سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ سیتا رمن نے کہا ’’ہم ہمیشہ سب کا ساتھ اور سب کا وکاس کے بارے میں بات کرتے ہیں اور یہ شمال مشرقی خطے کو شامل کیے بغیر مکمل نہیں ہو سکتا۔ یہ نہ صرف جن دھن اکاؤنٹس کھول کر مالی شمولیت کے بارے میں ہے، بلکہ نوجوانوں کی خواہشات کو پورا کرنے کے بارے میں بھی ہے۔‘‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’’آج نوجوان تیزی سے خود کو دنیا کی ضروریات کے مطابق ڈھال رہے ہیں۔ ایسے میں اگر پالیسی سپورٹ بھی مل جائے تو انٹرپرینیورشپ کی ترقی کے لیے ایک بہت اچھا پلیٹ فارم تشکیل پا سکتا ہے۔‘‘ نرملا سیتارمن نے کہا کہ ’’شمال مشرقی علاقے میں 2,300 DPIIT سے تسلیم شدہ اسٹارٹ اپ ہیں، جن میں سے 69 تو صرف میگھالیہ میں واقع ہیں۔‘‘
اسٹارٹ اپ نمائش کا بھی کیا دورہ
اس دوران وزیر خزانہ نے آئی آئی سی اے نارتھ ایسٹ کانکلیو 2025 میں اسٹارٹ اپ نمائش کا دورہ کیا اور اسٹارٹ اپ کے بانیوں سے بات چیت کی۔ اس دوران میگھالیہ کے وزیر اعلیٰ کونراڈ سنگما بھی ان کے ساتھ موجود تھے۔ واضح رہے کہ شمال مشرقی علاقے سے 39 اسٹارٹ اپس، ایف پی اوز، مالیاتی اداروں اور انکیوبیٹرز نے اس نمائش میں حصہ لیا۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ آئی آئی سی اے نارتھ ایسٹ کانکلیو 2025 ایک تبدیلی کی تقریب کے طور دیکھا جا رہا ہے جو خطے کی کاروباری صلاحیت کو اجاگر کرے گا اور علم، پالیسی اور شراکت داری کے ذریعے قومی ترجیحات کو مقامی امنگوں سے جوڑ دے گا۔ انھوں نے کانکلیو کے کامیاب انعقاد پر مبارکباد بھی دی۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



