نئی دہلی: مکیش امبانی کی قیادت والی ریلائنس انڈسٹریز لمیٹڈ (آر آئی ایل) نے پیر کے روز اس میڈیا رپورٹ کو مسترد کر دیا جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ حکومت نے کے جی-ڈی6 گیس بلاک سے مبینہ کم پیداوار کے معاملے پر کمپنی اور اس کے شراکت دار بی پی سے 30 بلین ڈالر کا مطالبہ کیا ہے۔ ریلائنس نے واضح کیا کہ ایسا کوئی دعویٰ موجود نہیں ہے اور اس رپورٹ کو’حقائق کے منافی‘قرار دیا۔
ریلائنس نے اسٹاک ایکسچینجز کو دیے گئے اپنے بیان میں کہا، “’انڈیا کلیمز 30 بلین ڈالر فرام ریلائنس انڈسٹریز، بی پی فار انڈر پروڈکشن فرام گیس فیلڈ، سورسز سے‘ کے عنوان سے شائع رپورٹ کے مندرجات حقائق کے منافی ہیں۔ نامعلوم اور غیر شناخت شدہ ذرائع کی بنیاد پر اس طرح کی رپورٹ شائع کرنا نامناسب اور غیر ذمہ دارانہ ہے۔”
کمپنی نے کہا کہ ریلائنس انڈسٹریز یا بی پی کے خلاف 30 بلین ڈالر کے کسی بھی دعوے کا کوئی وجود نہیں ہے۔ ریلائنس نے وضاحت کی کہ حکومتِ ہند کی جانب سے کے جی-ڈی6 بلاک سے متعلق جو دعویٰ کیا گیا ہے، وہ تقریباً 247 ملین ڈالر کا ہے، نہ کہ وہ رقم جو میڈیا رپورٹ میں بتائی گئی ہے۔
اس گروپ نے مزید کہا کہ 247 ملین ڈالر کے اس دعوے کا انکشاف کمپنی کی سالانہ آڈٹ شدہ مالیاتی رپورٹس میں، قابلِ اطلاق انکشافاتی تقاضوں کے مطابق، باقاعدگی اور تسلسل کے ساتھ کیا جاتا رہا ہے۔
کمپنی نے یہ بھی کہا کہ رپورٹ میں جن معاملات کا حوالہ دیا گیا ہے وہ مکمل طور پر زیرِ سماعت (سب جوڈس) ہیں اور ان کا فیصلہ ملک کے عدالتی نظام کے تحت قوانین کے مطابق کیا جائے گا، جس پر ریلائنس کو مکمل اعتماد ہے۔
ریلائنس نے مزید کہا کہ اس نے اور اس کے شراکت دار بی پی نے ہر وقت اپنی معاہداتی اور قانونی ذمہ داریوں کی پابندی کی ہے، اور رپورٹ میں حقائق کی جس طرح غلط تشریح کی گئی ہے اس پر کمپنی کو سخت اعتراض ہے۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

