Bharat Express DD Free Dish

Mukesh Ambani

ریلائنس کے چیئرمین مکیش امبانی نے ممبئی میں اروندھتی بھٹاچاریہ کی خودنوشت ’اپراجیتا‘ کے ہندی ایڈیشن کا اجرا کیا۔ انہوں نے خواتین کی قیادت، جذباتی ذہانت اور کام کرنے والی خواتین و ماؤں کے لیے معاون ماحول تیار کرنے پر زور دیا۔

جیو کے صارفین کی مجموعی تعداد بڑھ کر 53 کروڑ 33 لاکھ ہو گئی، جبکہ جیو ٹرو 5G استعمال کرنے والوں کی تعداد 28 کروڑ 50 لاکھ تک پہنچ گئی۔ گزشتہ ایک سال میں 73 ملین نئے 5G صارفین جیو سے وابستہ ہوئے۔ اسی عرصے میں ڈیٹا ٹریفک 26.9 فیصد اضافے کے ساتھ 69.4 ارب جی بی تک پہنچ گیا۔

ریلائنس انڈسٹریز نے بریفنگ کے دوران بہتر تجربے کے لیے چند اہم ہدایات بھی جاری کی ہیں۔ کمپنی نے مشورہ دیا ہے کہ موبائل فون استعمال کرنے والے صارفین بریفنگ کے دوران بار بار مختلف ایپس کے درمیان سوئچ نہ کریں، کیونکہ اس سے نشریات متاثر ہوسکتی ہیں۔ اسی طرح اسکرین کو بار بار ٹچ کرنے سے بھی گریز کرنے کی ہدایت دی گئی ہے تاکہ لائیو اسٹریمنگ میں خلل نہ آئے۔

نیتا امبانی نے کہا کہ ان کے والد کی زندگی کے آخری برس شدید علالت میں گزرے اور اسی دوران ان کی دیکھ بھال کے تجربے نے انہیں صحت کے شعبے میں کام کرنے کی ترغیب دی۔ نیتا امبانی نے کہا کہ ریلائنس فاؤنڈیشن کے ذریعے صحت کی سہولیات کو بہتر بنانے کی جو کوششیں کی گئیں،

آکاش، ایشا اور اننت امبانی سنبھالیں گے جیو کے آئی پی او کی قیادت۔ مکیش امبانی نے کہا ہے کہ ریلائنس اور اس کے شیئر ہولڈرز کے درمیان تعلق محض کاروباری نہیں بلکہ اعتماد، احترام، باہمی ترقی اور فخر پر مبنی ایک مضبوط اور مقدس رشتہ ہے۔ 

ریلائنس انڈسٹریز کے بورڈ کی منظوری کے بعد ملک کی سب سے بڑی ٹیلی کام کمپنی جیو کے عوامی اجرا کی راہ ہموار، سرمایہ کاروں میں جوش و خروش

مندر کمیٹی کے مطابق 10 کروڑ روپے کی اس مالی امداد سے یاتریوں کے لیے سہولیات کو مزید بہتر بنایا جائے گا اور مختلف ترقیاتی و انتظامی منصوبوں کو تقویت ملے گی۔ عہدیداروں کا کہنا ہے کہ مکیش امبانی ہر سال ہمالیائی دھاموں کی یاترا کرتے ہیں اور مندر کمیٹی کی مالی معاونت بھی مسلسل جاری رکھتے ہیں، جسے ان کی اہم روحانی وابستگی تصور کیا جاتا ہے۔

ایشیا کی اس فہرست میں تیسرے نمبر پر چین کے ٹیکنالوجی کاروباری شخصیت اوژانگ یمنگ ہیں، جو بائٹ ڈانس کے سابق سی ای او رہ چکے ہیں۔ ان کی دولت 68.7 ارب ڈالر بتائی گئی ہے۔ چوتھے نمبر پر ژونگ شانشان ہیں

اننت امبانی نے اپنے خطاب میں کہا ہے کہ ہم ایک ایسی وراثت تخلیق کر رہے ہیں جو صرف آج کے تقاضوں کو پورا نہیں کرے گی بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہوگی۔ ان کے مطابق یونیورسٹی جدید تحقیق، سائنسی جدت اور عملی تربیت کے ذریعے عالمی سطح کے ماہرین تیار کرے گی۔

اننت امبانی نے اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ونتارا یونیورسٹی کا مقصد ایسے ماہرین تیار کرنا ہے جو نہ صرف جانوروں کی دیکھ بھال میں مہارت رکھتے ہوں بلکہ ماحولیاتی تحفظ اور حیاتیاتی تنوع کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ آج کے دور میں صرف علم کافی نہیں بلکہ حساسیت اور فہم بھی ضروری ہے، اور یہی فلسفہ اس ادارے کی بنیاد بنے گا۔