نئی دہلی: نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے) نے 21 جون کو ہونے والے نیٹ (یو جی) 2026 امتحان سے قبل امیدواروں کے لیے نئی رہنما ہدایات جاری کر دی ہیں۔ این ٹی اے نے واضح کیا ہے کہ حجاب، پگڑی، کلاوا (مقدس دھاگا) اور دیگر مذہبی علامات یا لباس پہن کر امتحان مرکز میں آنے پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ تاہم ایسے امیدواروں کو تفصیلی سکیورٹی جانچ (فِرسکنگ) کے لیے مقررہ وقت سے پہلے امتحان مرکز پہنچنا ہوگا۔ این ٹی اے کا کہنا ہے کہ ان ہدایات کا مقصد امتحان کو شفاف، محفوظ اور منظم انداز میں منعقد کرنا ہے۔
لباس، جوتوں اور ضروری اشیا سے متعلق ہدایات
این ٹی اے کے مطابق امیدوار امتحانی ہال میں شفاف (Transparent) پانی کی بوتل لے جا سکتے ہیں۔ اسی طرح ایڈمٹ کارڈ کو بارش سے محفوظ رکھنے کے لیے شفاف پلاسٹک پاؤچ میں لانے کی بھی اجازت دی گئی ہے۔ ہلکے کپڑے پہننے کو ترجیح دی گئی ہے، تاہم ضرورت پڑنے پر پوری آستین والے یا اونی لباس پہننے کی بھی اجازت ہوگی، لیکن ایسے امیدواروں کو بھی اضافی جانچ کے لیے پہلے پہنچنا ہوگا۔ جوتوں کے معاملے میں چپل یا کم ایڑی والے جوتے پہننے کی ہدایت دی گئی ہے، جبکہ اونچی ایڑی والے جوتے پہننے والوں کی اضافی تلاشی لی جا سکتی ہے۔ این ٹی اے نے واضح کیا ہے کہ موبائل فون، اسمارٹ واچ، بلوٹوتھ ڈیوائس، ایئر فون یا کسی بھی قسم کے الیکٹرانک یا مواصلاتی آلات کو امتحانی ہال میں لے جانے کی سخت ممانعت ہے۔ اسی طرح دھاتی اشیا، بڑے بیلٹ بکل، بھاری زیورات اور دیگر غیر ضروری لوازمات بھی امتحان مرکز کے اندر لے جانے کی اجازت نہیں ہوگی۔
تمام امیدواروں کی لازمی تلاشی ہوگی
این ٹی اے کے مطابق ہر امیدوار کی امتحانی مرکز میں داخلے سے قبل لازمی جسمانی تلاشی (فِرسکنگ) کی جائے گی۔ اس لیے تمام امیدواروں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ مقررہ رپورٹنگ وقت پر یا اس سے پہلے مرکز پہنچیں تاکہ سکیورٹی جانچ بروقت مکمل ہو سکے اور غیر ضروری پریشانی سے بچا جا سکے۔ ایجنسی نے خبردار کیا ہے کہ ڈریس کوڈ اور سکیورٹی پروٹوکول پر عمل نہ کرنے والے امیدواروں کو امتحان مرکز میں داخلے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


