Bharat Express DD Free Dish

Tahawwur Rana: تہور رانا سے پوچھ تاچھ میں ہو رہے ہیں اہم انکشافات، این آئی اے نے کہا-ڈیوڈ ہیڈلی کی جاسوسی میں مدد کے لیے اس نے قائم کیا ممبئی کارپوریٹ فرنٹ

این آئی اے کے مطابق رانا سے دورانِ حراست کئی اہم انکشافات سامنے آئے ہیں جن کی تصدیق کے لیے امریکا کو قانونی معاونت کی درخواستیں بھیجی گئی ہیں۔

26/11 ممبئی دہشت گرد حملوں کی تحقیقات میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) نے بدھ کو پاکستانی نژاد کینیڈیائی شہری طاہر حسین رانا کے خلاف ضمنی چارج شیٹ داخل کی ہے۔ رانا پر الزام ہے کہ اس نے لشکرِ طیبہ سے وابستہ دہشت گرد ڈیوڈ کولمین ہیڈلی کی مدد کرتے ہوئے حملوں کی منصوبہ بندی اور ریسرچ میں کلیدی کردار ادا کیا۔ چارج شیٹ کے مطابق رانا نے ممبئی میں ’’امیگرنٹ لاء سینٹر‘‘ کے نام سے ایک جعلی کاروباری دفتر قائم کیا، جو بظاہر ایک قانونی ادارہ تھا لیکن اس میں کوئی اصل کاروباری سرگرمی نہیں ہوتی تھی۔

یہ دفتر دو سال سے زیادہ عرصے تک فعال رہا اور ہیڈلی کو ممبئی میں مختلف اہم مقامات کی خفیہ نگرانی کے لیے سہولت فراہم کرتا رہا۔ ان ہی معلومات کی بنیاد پر 2008 میں حملے کیے گئے جن میں 170 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے تھے۔ این آئی اے کے مطابق رانا 2005 سے شروع ہونے والی ایک وسیع سازش کا حصہ تھا، جس میں پاکستان میں موجود دیگر شریک سازشی افراد بھی شامل تھے۔ اس سازش کا مقصد ہندوستان کے خلاف جنگ چھیڑنا، ملک کی سالمیت کو نقصان پہنچانا اور خوف و ہراس پھیلانا تھا۔

واضح رہے کہ رانا کو جنوری 2025 میں امریکی سپریم کورٹ کی جانب سے اپیل مسترد کیے جانے کے بعد ہندوستان کے حوالے کیا گیا۔ 10 اپریل کو دہلی کی خصوصی این آئی اے عدالت کی جانب سے جاری وارنٹ کے تحت اسے گرفتار کیا گیا۔ این آئی اے کے مطابق رانا سے دورانِ حراست کئی اہم انکشافات سامنے آئے ہیں جن کی تصدیق کے لیے امریکا کو قانونی معاونت کی درخواستیں بھیجی گئی ہیں۔ رانا کے خلاف تعزیراتِ ہند کی دفعات 120B، 121، 302، 468، 471 اور غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام ایکٹ (UAPA) کی دفعات 16 اور 18 کے تحت سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ این آئی اے نے کہا ہے کہ تحقیقات تاحال جاری ہیں اور مزید شواہد کی بنیاد پر اضافی کارروائیاں ممکن ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read