نئی دہلی:وزیر اعظم نریندر مودی کے نیدرلینڈز دورے کے دوران بھارت کو اپنی ایک اور قیمتی تاریخی وراثت واپس مل گئی۔ نیدرلینڈز کی معروف لیڈن یونیورسٹی لائبریری نے گیارہویں صدی کے چول دور سے تعلق رکھنے والے 24 نایاب تانبے کے تاریخی پلیٹیں بھارت لوٹ رہیں ہیں۔ اس تاریخی تقریب میں وزیر اعظم مودی کے ساتھ نیدرلینڈز کے وزیر اعظم بھی موجود تھے۔ ان نادر تامرا پتروں کی وطن واپسی کو بھارت کی ثقافتی اور تاریخی شناخت کے لیے ایک اہم لمحہ قرار دیا جا رہا ہے۔وزیر اعظم مودی نے اس موقع کو ہر بھارتی کے لیے فخر اور جذباتی لمحہ قرار دیتے ہوئے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اپنی خوشی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ چول سلطنت کے یہ تاریخی تانبے کے کتبے اب واپس بھارت آ رہے ہیں، جو ملک کی عظیم تہذیبی وراثت کی علامت ہیں۔ وزیر اعظم نے نیدرلینڈز حکومت اور خاص طور پر لیڈن یونیورسٹی کا شکریہ ادا کیا، جس نے تقریباً ڈیڑھ سو برس تک ان قیمتی نوادرات کو محفوظ رکھا۔
Versterking van samenwerking in futuristische sectoren!
Premier Rob Jetten en ik waren getuige van de ondertekening van de MoU tussen Tata en ASML voor de verdere ontwikkeling van het ecosysteem voor de productie van halfgeleiders in India.
ASML zal de oprichting en… pic.twitter.com/kSoPGNWhxq— Narendra Modi (@narendramodi) May 16, 2026
یہ تاریخی مجموعہ 21 بڑے اور 3 چھوٹے تانبے کی پلیٹیوں پر مشتمل ہے۔ ان پر زیادہ تر تحریریں قدیم تمل زبان میں کندہ ہیں، جب کہ کچھ حصے سنسکرت زبان میں بھی تحریر کیے گئے ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ کتبے عظیم چول حکمراں راجندر چول اول کے دور سے تعلق رکھتے ہیں اور ان میں ان کے والد راجاراجا چول اول کی ایک زبانی یقین دہانی کو باضابطہ سرکاری شکل دی گئی تھی۔ان تانبے کی پلیٹوں کو اس دور کے شاہی سرکاری دستاویزات مانا جاتا ہے۔ ان میں تمل ناڈو کے ناگاپٹنم میں واقع “چولامنّی ورم وہار” نامی بدھ خانقاہ کو “آنئی منگلم” گاؤں عطیہ کیے جانے کی مکمل تفصیلات درج ہیں۔ یہ دستاویزات نہ صرف چول سلطنت کی مضبوط انتظامی اور عدالتی نظام کی عکاسی کرتے ہیں بلکہ ان کی عظیم سمندری طاقت اور ثقافتی عظمت کا بھی ثبوت ہیں۔تاریخ دانوں کے مطابق چول سلطنت جنوبی بھارت کی سب سے طاقتور سلطنتوں میں شمار ہوتی تھی، جس نے بحری تجارت اور ثقافت کے میدان میں دنیا بھر میں اپنی الگ شناخت قائم کی۔ یہی وجہ ہے کہ بھارت میں چول تہذیب کو آج بھی بے حد احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔
لیڈن یونیورسٹی میں یہ تاریخی نوادرات 19ویں صدی کے وسط سے محفوظ رکھے گئے تھے۔ اب ان کی بھارت واپسی کو دونوں ممالک کے درمیان ثقافتی تعاون اور تاریخی ورثے کے تحفظ کی ایک بڑی مثال مانا جا رہا ہے۔ بھارتی حکومت نے اس اقدام کو تاریخی اہمیت کا حامل قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ مستقبل میں بھی بیرون ملک موجود بھارتی نوادرات کی وطن واپسی کا سلسلہ جاری رہے گا۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



