نئی دہلی: مرکزی حکومت نے میڈیکل داخلہ امتحان نیٹ-پی جی 2025 کی کوالیفائنگ کٹ آف میں غیر معمولی کمی کا اعلان کیا ہے، جس کے بعد ملک بھر میں بحث اور تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔ مرکزی وزارتِ صحت و خاندانی بہبود کی جانب سے جاری کردہ فیصلے کے مطابق اب ایس سی، ایس ٹی اور او بی سی زمروں کے امیدوار مائنس 40 پرسنٹائل حاصل کرنے پر بھی ایم ڈی، ایم ایس جیسے پوسٹ گریجویٹ میڈیکل کورسز میں داخلے کے اہل ہوں گے۔ اسی طرح جنرل اور ای ڈبلیو ایس کیٹیگری کے لیے بھی کٹ آف میں نرمی کی گئی ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ بنیادی طور پر پی جی میڈیکل کورسز کی بڑی تعداد میں خالی رہ جانے والی نشستوں کو پُر کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔ نیٹ-پی جی 2025 میں اس سال تقریباً 2.4 لاکھ امیدواروں نے شرکت کی، تاہم زیادہ کٹ آف کی وجہ سے ہزاروں نشستیں خالی رہ گئیں۔ اسی مسئلے کو مدنظر رکھتے ہوئے کٹ آف میں کمی کا فیصلہ لیا گیا، تاکہ دستیاب وسائل کا بہتر استعمال کیا جا سکے اور مستقبل میں ماہر ڈاکٹروں کی کمی کو روکا جا سکے۔
نئی کٹ آف پالیسی کے تحت، ایس سی، ایس ٹی اور او بی سی امیدواروں کو مائنس 40 پرسنٹائل پر کوالیفائی تصور کیا جائے گا، جس کے بعد وہ کاؤنسلنگ کے عمل میں شامل ہو سکیں گے۔ حکام کا کہنا ہے کہ داخلہ ملنے کے بعد یہ امیدوار ایم ڈی، ایم ایس جیسے کورس مکمل کر کے بطور ماہر ڈاکٹر خدمات انجام دیں گے۔ تاہم اس فیصلے کے سامنے آتے ہی سوشل میڈیا پر شدید ردعمل دیکھنے کو مل رہا ہے، جہاں کئی لوگ میڈیکل ایجوکیشن کے معیار پر سوال اٹھا رہے ہیں۔
ملک بھر میں اس وقت تقریباً 65 ہزار سے 70 ہزار پوسٹ گریجویٹ میڈیکل نشستیں دستیاب ہیں، جن میں سے بڑی تعداد ہر سال خالی رہ جاتی ہے۔ انڈین میڈیکل ایسوسی ایشن (آئی ایم اے) نے بھی اس مسئلے پر وزارتِ صحت کو خط لکھ کر کٹ آف میں نرمی کا مطالبہ کیا تھا۔ آئی ایم اے کا مؤقف تھا کہ خالی نشستیں رہنے سے ریزیڈنٹ ڈاکٹروں کی کمی بڑھے گی اور پہلے سے دباؤ میں چل رہے صحت کے نظام پر مزید بوجھ پڑے گا۔
نیشنل بورڈ آف ایگزامینیشنز اِن میڈیکل سائنسز (این بی ای ایم ایس) کے حکام نے وضاحت کی ہے کہ کٹ آف میں کمی کا امتحانی اسکور یا رینکنگ پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ یہ فیصلہ صرف اس بات کا تعین کرتا ہے کہ کون سے امیدوار کاؤنسلنگ میں حصہ لینے کے اہل ہوں گے۔ حکام کے مطابق تقریباً 9 سے 10 ہزار پی جی نشستوں کو ضائع ہونے سے بچانے کے لیے یہ قدم ضروری تھا۔ اس فیصلے پر طلبہ اور ڈاکٹروں کے درمیان ملی جلی رائے سامنے آ رہی ہے۔ کچھ لوگ اسے عملی ضرورت قرار دے رہے ہیں، جبکہ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس سے طبی تعلیم کے معیار اور مریضوں کی سلامتی پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


