نئی دہلی :نیٹ پیپر لیک معاملے میں مرکزی جانچ بیورو (سی بی آئی) کو بڑی کامیابی ملی ہے۔ جانچ ایجنسی نے اس پورے ریکیٹ کے مبینہ ماسٹر مائنڈ پی وی کلکرنی کو گرفتار کر لیا ہے۔ اس معاملے نے ملک بھر میں امتحانی نظام اور سوالیہ پرچوں کی سکیورٹی پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ سی بی آئی کے مطابق اس کیس میں مزید گرفتاریاں بھی متوقع ہیں اور اب نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے) سے وابستہ افراد بھی جانچ کے دائرے میں آ سکتے ہیں۔سی بی آئی کی تحقیقات کے دوران سامنے آیا ہے کہ پی وی کلکرنی نے امتحانی عمل کی رازداری کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے پیپر لیک اور نقل سے متعلق ایک منظم نیٹ ورک تیار کیا تھا۔ الزام ہے کہ اس نے امتحان سے پہلے ہی خفیہ سوالات مخصوص طلبہ تک پہنچانے کا انتظام کیا۔
گرفتار ملزم پی وی کلکرنی مہاراشٹر کے لاتور کا رہنے والا ہے۔ وہ ماضی میں لاتور کے دیانند کالج میں کیمسٹری کے پروفیسر کے طور پر خدمات انجام دے چکا ہے اور اب ریٹائر ہو چکےہیں۔ سی بی آئی کے مطابق وہ طویل عرصے سے این ٹی اے کی امتحانی کارروائیوں سے جڑا ہوا تھا، جس کی وجہ سے اسے سوالیہ پرچوں تک رسائی حاصل تھی۔جانچ ایجنسی کو کلکرنی تک پہنچنے میں ملزمہ منیشا واگھمارے سے پوچھ گچھ کے دوران اہم سراغ ملے۔ اس کے بعد سی بی آئی نے کارروائی کرتے ہوئے کلکرنی کو گرفتار کیا۔ ذرائع کے مطابق کلکرنی صرف کیمسٹری مضمون کا ماہر تھا، اس لیے اب جانچ اس بات پر مرکوز ہے کہ دوسرے مضامین کے سوالات کس نے فراہم کیے اور اس نیٹ ورک میں اور کون کون شامل تھا۔
سی بی آئی نے این ٹی اے سے ان تقریباً 50 افراد کی فہرست بھی حاصل کر لی ہے، جو سوالیہ پرچے تیار کرنے، ان کی چھپائی اور امتحانی مراکز تک پہنچانے کے عمل میں شامل تھے۔ جانچ ایجنسی اب ان تمام افراد کے کردار کا باریک بینی سے جائزہ لے رہی ہے۔تحقیقات میں یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ یہ پورا معاملہ کسی ایک شخص کا کام نہیں تھا بلکہ ایک منظم گروہ کے طور پر کام کیا جا رہا تھا۔ جانچ حکام کا ماننا ہے کہ اس نیٹ ورک میں کئی افراد شامل تھے، جو امتحان سے پہلے ہی خفیہ معلومات طلبہ تک پہنچانے کی کوشش کرتے تھے۔نیٹ جیسے قومی سطح کے اہم امتحان میں پیپر لیک کے انکشاف نے طلبہ اور والدین میں تشویش پیدا کر دی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر امتحانی نظام کی شفافیت پر سوال اٹھتے رہے تو اس سے لاکھوں طلبہ کے مستقبل پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔سی بی آئی نے واضح کیا ہے کہ معاملے کی گہرائی سے جانچ جاری ہے اور آنے والے دنوں میں مزید بڑے انکشافات اور گرفتاریاں ہو سکتی ہیں۔ حکومت اور جانچ ایجنسیاں اس معاملے کو انتہائی سنجیدگی سے لے رہی ہیں تاکہ مستقبل میں ایسی بدعنوانیوں کو روکا جا سکے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



