مرکزی حکومت نے اسکولی تعلیم کے بنیادی ستون NCERT کو بڑی سوغات دی ہے۔ UGC کی سفارش پر اب این سی ای آر ٹی کو ’ڈیِمڈ یونیورسٹی‘ کا درجہ دے دیا گیا ہے۔ اس تاریخی فیصلے سے نہ صرف دہلی میں واقع اس کا ہیڈکوارٹر بلکہ اجمیر، بھوبال اور میسور جیسے اس کے 6 علاقائی مراکز کو بھی نئی شناخت اور تعلیمی اختیارات حاصل ہوں گے۔ اگر آپ نے بھارت میں تعلیم حاصل کی ہے تو این سی ای آر ٹی کا نام آپ کے بچپن سے جڑا ہوگا۔ اسکول کی بھاری بھرکم کتابوں کے پیچھے لکھا یہ نام اب صرف ایک تحقیقی ادارہ نہیں رہا۔ مرکزی حکومت نے بڑا فیصلہ لیتے ہوئے نیشنل کاؤنسل آف ایجوکیشنل ریسرچ اینڈ ٹریننگ کو ’ڈیِمڈ یونیورسٹی‘ یعنی مانِت یونیورسٹی قرار دے دیا ہے۔ یہ فیصلہ وزارتِ تعلیم ہند نے یو جی سی کی سفارشات کی بنیاد پر لیا ہے۔ آسان الفاظ میں کہیں تو اب این سی ای آر ٹی کے پاس بھی ایک مکمل یونیورسٹی جیسی اختیارات ہوں گے اور وہ تعلیمی میدان میں اپنی الگ شناخت قائم کر سکے گا۔
یہ فیصلہ کیوں اہم ہے؟
دراصل این سی ای آر ٹی نے یو جی سی کے پورٹل پر ایک آن لائن درخواست دی تھی، جس میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اسے ایک مخصوص زمرے کے تحت یونیورسٹی کا درجہ دیا جائے۔ یو جی سی کی ایک ماہر کمیٹی نے اس درخواست کا باریک بینی سے جائزہ لیا اور منظوری دے دی۔ اس کے بعد وزارتِ تعلیم نے یو جی سی ایکٹ 1956 کی دفعہ 3 کے تحت اسے باضابطہ طور پر یونیورسٹی قرار دے دیا۔
ملک بھر کے یہ 6 ادارے بھی اب یونیورسٹی کا حصہ
این سی ای آر ٹی کو ملا یہ درجہ صرف دہلی میں واقع ہیڈکوارٹر تک محدود نہیں رہے گا بلکہ ملک کے مختلف حصوں میں قائم اس کی چھ اہم اکائیوں کو بھی اب ڈیِمڈ یونیورسٹی کا حصہ سمجھا جائے گا:
ریجنل انسٹی ٹیوٹ آف ایجوکیشن، اجمیر (راجستھان)
ریجنل انسٹی ٹیوٹ آف ایجوکیشن، بھوبال (مدھیہ پردیش)
ریجنل انسٹی ٹیوٹ آف ایجوکیشن، بھوبنیشور (اوڈیشہ)
ریجنل انسٹی ٹیوٹ آف ایجوکیشن، میسور (کرناٹک)
نارتھ ایسٹ ریجنل انسٹی ٹیوٹ آف ایجوکیشن، شیلانگ (میگھالیہ)
پنڈت سندر لال شرما سینٹرل انسٹی ٹیوٹ آف ووکیشنل ایجوکیشن، بھوپال (مدھیہ پردیش)
اب کیا بدلے گا؟
یو جی سی نے اس درجہ کے ساتھ این سی ای آر ٹی کو ایک ’لیٹر آف انٹینٹ‘ (LoI) بھی جاری کیا ہے، جس میں کچھ ضروری شرائط رکھی گئی ہیں جنہیں ادارے کو پورا کرنا ہوگا۔ اس تبدیلی کے بعد اب این سی ای آر ٹی اپنے ڈگری پروگرام، پوسٹ گریجویشن اور ڈاکٹریٹ ریسرچ (پی ایچ ڈی) جیسے کورسز شروع کر سکے گا۔ اس سے نہ صرف اساتذہ کی تربیت میں بہتری آئے گی بلکہ بھارتی تعلیمی نظام میں تحقیق اور اختراع کو بھی نئی رفتار ملے گی۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



