Bharat Express DD Free Dish

Nationwide Workers Strike Today: بھارت بند آج، ہڑتال میں شامل ہورہے ہیں 25 کروڑ ملازمین اور کسان مزدور،جانئے کیا ہے ہڑتال کی وجہ

اسکول، کالج اور پرائیویٹ دفاتر معمول کے مطابق کھلے رہنے کی توقع ہے، تاہم ٹرانسپورٹ، بینک اور ڈاک خدمات میں خلل کی وجہ سے عام زندگی متاثر ہوسکتی ہے۔بھارت بند سے بجلی کی سپلائی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔ پاور سیکٹر سے وابستہ 27 لاکھ سے زیادہ ملازمین اس ملک گیر ہڑتال میں شامل ہونے جا رہے ہیں۔

آج احتجاجاً بھارت بند ہے۔بھارت بند کا وسیع اثر آج 9 جولائی کو پورے ملک میں دیکھا جا سکتا ہے۔یہ بند 10 مرکزی ٹریڈ یونینوں اور کسان تنظیموں کے مشترکہ پلیٹ فارم کی کال پر دیا گیا ہے۔ احتجاج کرنے والی تنظیمیں مرکزی حکومت کی پالیسیوں کے خلاف احتجاج کر رہی ہیں، جنہیں وہ مزدور مخالف، کسان مخالف اور کارپوریٹ نواز سمجھتی ہیں۔بینکنگ، ٹرانسپورٹ، ڈاک خدمات، کوئلہ کانکنی اور تعمیراتی شعبوں کے تقریباً 25 کروڑ ملازمین اور دیہی مزدور اس ہڑتال میں حصہ لے رہے ہیں۔ اس سے کئی ریاستوں میں عوامی خدمات متاثر ہونے کا امکان ہے۔کئی سیاسی جماعتوں بطور خاص اپوزیشن کی پارٹیوں نے بھی اس بند کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔

کیا کھلا اور بند رہے گا؟

اسکول، کالج اور پرائیویٹ دفاتر معمول کے مطابق کھلے رہنے کی توقع ہے، تاہم ٹرانسپورٹ، بینک اور ڈاک خدمات میں خلل کی وجہ سے عام زندگی متاثر ہوسکتی ہے۔بھارت بند سے بجلی کی سپلائی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔ پاور سیکٹر سے وابستہ 27 لاکھ سے زیادہ ملازمین اس ملک گیر ہڑتال میں شامل ہونے جا رہے ہیں، جس سے کئی ریاستوں میں بجلی کی فراہمی میں خلل پڑ سکتا ہے۔ٹریڈ یونینوں کے مطابق مرکزی حکومت کی مزدور دشمن پالیسیوں کے خلاف منعقد کی جانے والی اس ہڑتال میں بجلی مزدوروں کی بڑی تعداد میں شرکت ہوگی۔ ایسے میں کئی علاقوں میں بجلی بند ہونے یا خدمات میں خلل پڑنے کا خدشہ ہے۔

بھارت بند سے ریل خدمات بھی متاثر ہو سکتی ہیں

ریلوے یونینوں نے بھارت بند میں اپنی شرکت کا باضابطہ اعلان نہیں کیا ہے، لیکن ہڑتال کا بالواسطہ طور پر ٹرین خدمات پر اثر پڑ سکتا ہے۔ پورے ریلوے نیٹ ورک کو ٹھپ کرنے کا کوئی امکان نہیں ہے، پھر بھی کچھ روٹس پر ٹرینوں میں تاخیر، پلیٹ فارم پر ہجوم یا مقامی رکاوٹیں ہو سکتی ہیں۔ مسافروں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ سفر کرنے سے پہلے اپنے روٹ کی حالت کا جائزہ لیں۔کیرالہ کے وزیر ٹرانسپورٹ کے بی گنیش کمار نے کہا ہے کہ KSRTC بسیں بدھ (9 جولائی) کو معمول کے مطابق چلیں گی، کیونکہ یونینوں سے ہڑتال کی کوئی اطلاع نہیں ملی ہے، لیکن ٹریڈ یونینوں نے وزیر کے بیان کو غلط قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہڑتال کی اطلاع پہلے ہی دے دی گئی ہے اور KSRTC ملازمین بھارت بند میں شامل ہوں گے۔

یونینز کیا کہتے ہیں؟

اس تحریک کو متحدہ کسان مورچہ، زرعی مزدور یونین اور کئی علاقائی تنظیموں کی حمایت بھی حاصل ہے۔ یونینوں کا کہنا ہے کہ یہ احتجاج لیبر قوانین میں تبدیلی، پبلک سیکٹرز کی نجکاری، کنٹریکٹ ملازمتوں میں توسیع اور بے روزگاری جیسے مسائل کو لے کر ہے۔اس بار ہڑتال کو متحدہ کسان مورچہ (SKM) اور زرعی مزدور یونینوں کے مشترکہ پلیٹ فارم کی حمایت بھی حاصل ہوئی ہے۔ ان کے تعاون سے دیہی علاقوں میں بڑے پیمانے پر احتجاج اور سڑکیں بلاک کرنے کی حکمت عملی بنائی گئی ہے۔

مظاہرین کے بنیادی مطالبات کیا ہیں؟

ہڑتال کی قیادت کر رہی 10 مرکزی ٹریڈ یونینوں اور کسانوں کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ مرکزی حکومت کی پالیسیاں مزدور مخالف، کسان مخالف اور کارپوریٹ نواز ہیں۔ انہوں نے حکومت کے سامنے 9 اہم مطالبات رکھے ہیں۔

  1. چار نئے لیبر کوڈز کو واپس لیا جائے۔
  2. نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع اور سرکاری آسامیاں فوری طور پر پُر کی جائیں۔
  3. ماہانہ 26,000 روپے کی کم از کم اجرت کی ضمانت دی جائے۔
  4. پرانی پنشن سکیم (او پی ایس) کو بحال کیا جائے۔
  5. 8 گھنٹے کام کے دن کی ضمانت دی جانی چاہیے۔
  6. MGNREGA کو شہری علاقوں تک بڑھایا جائے۔
  7. اگنی پتھ اسکیم کو منسوخ کیا جائے۔
  8. ہڑتال کرنے اور یونینز بنانے کے حق کا تحفظ کیا جائے۔
  9. صحت اور تعلیم جیسی عوامی خدمات کو مضبوط کیا جائے۔


بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔