Bharat Express DD Free Dish

مسلم راشٹریہ منچ نے چنئی میں عظیم الشان تقریب میں 24 سال مکمل کئے، ’ایک قوم، ایک وطن – ہندوستان‘ کے عزم کا اعادہ کیا

جنوبی ہند اجلاس میں اتحاد، تعلیم اور قومی یکجہتی کے لیے زوردار آوازیں، تمل ناڈو میں MRM اجلاس میں منچ کی توسیع، مارگ درشک ڈاکٹر اندریش کمار، قومی رابطہ کار و تعلیم دان پروفیسر ڈاکٹر شاہد اختر، ہمالیہ پریوار کے وجے شنکر مشرا، رکن پارلیمنٹ متھلیش کمار کٹھیریا، کینسر سرجن و قومی رابطہ کار ڈاکٹر ماجد احمد تالیکوٹی، قومی رابطہ کار و جنوبی ہند انچارج الیاس احمد، اور پروگرام رابطہ کار احمد ملک ودیار شامل تھے۔

چنئی، 01 اگست 2026 – مسلم راشٹریہ منچ (MRM) نے اپنی قومی خدمت، سماجی ہم آہنگی اور برادری کی شمولیت کے 24 سالہ سفر کو چینئی کے ایگمور میں واقع ریڈیسن بلیو ہوٹل میں ایک شاندار تقریب کے ساتھ منایا۔ “ایک قوم، ایک وطن – ہندوستان” کے پرلطف موضوع کے تحت منعقد ہونے والے اس پروگرام نے پورے جنوبی ہند سے آنے والے ممتاز رہنماؤں، علماء، دانشوروں، سماجی کارکنوں، نوجوان نمائندوں اوروفود کوایک پلیٹ فارم پرجمع کیا تاکہ قومی اتحاد، آئینی اقداراورایک ترقی یافتہ وخوشحال ہندوستان کے مشترکہ خواب کے لیے اپنی وابستگی کا اعادہ کیا جا سکے۔

ایک تاریخی سنگ میل
سن 2002 میں ڈاکٹراندریش کمار(مسلم راشٹریہ منچ کے مارگ درشک) کی رہنمائی میں قائم ہونے کے بعد یہ تنظیم ایک اہم قومی پلیٹ فارم کے طورپرابھری ہے، جوسماجی ہم آہنگی کو مضبوط کرنے، تعمیری مکالمے کوفروغ دینے اورشہریوں کی قوم سازی میں شرکت بڑھانے کے لیے وقف ہے۔ اس تنظیم کی باقاعدہ بنیاد 24 دسمبر 2002 کوصحافی مظفر حسین کی رہائش پرگجرات فسادات کے کچھ ہی عرصہ بعد رکھی گئی تھی، جس کا مقصد برادریوں کے درمیان مکالمہ کو فروغ دینا اور اعتماد کے پل تعمیر کرنا تھا۔

پچھلے 24 سالوں میں MRM نے قومی یکجہتی کو مستحکم کرنے، بین المذاہب افہام و تفہیم کو بڑھانے، ہندوستان کی مشترکہ ثقافت کو محفوظ رکھنے اور ملک کی ترقی میں معاشرے کے تمام طبقات کی فعال شرکت کی حوصلہ افزائی کے لیے مسلسل کام کیا ہے۔ تنظیم کی سرگرمیاں تین بنیادی اصولوں –تعلیم، ترقی، اورتہذیب– کے تحت چلتی ہیں، جو ایک بااختیاراورپرامن معاشرے کی تعمیرکی بنیاد ہیں۔

اہم شخصیات کی شرکت نے تقریب کو چار چاند لگا دیئے

اس موقع پر مہمان خصوصی کے طورپرڈاکٹراندریش کمار (مسلم راشٹریہ منچ کے مارگ درشک اور RSS قومی کاروباری کمیٹی کے سینئر رکن) موجود تھے۔ خصوصی مہمانوں میں پروفیسر ڈاکٹرشاہد اختر (قومی اقلیتی تعلیمی ادارے کمیشن، حکومت ہند کے قائم مقام چیئرمین)، وجے شنکرمشرا (ہمالیہ پریوارکے قومی نائب صدر)، متھلیش کمارکٹھیریا (راجیہ سبھا ممبر)، ڈاکٹر ماجد احمد تالیکوٹی (معروف کینسر سرجن و MRM کے قومی رابطہ کار)، الیاس احمد (MRM کے قومی رابطہ کاروجنوبی ہند انچارج)، اوراحمد ملک ودیار(پروگرام رابطہ کار) شامل تھے۔ اس اجتماع میں احمد ملک ودیارکوتمل ناڈو کا چیف رابطہ کاروانچارج مقررکیا گیا، جو پوری ریاست میں تنظیم کی رسائی بڑھانے کی کوششوں کا ایک نیا باب ہے۔

اتحاد وعزم کی آوازیں

اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹراندریش کمار نے زوردیا کہ ہندوستان نے ہزاروں سالوں سے دنیا کو دکھایا ہے کہ اتحاد، ہم آہنگی اوربقائے باہم تمدن کے اعلیٰ ترین اظہارہیں۔ انہوں نے کہا – “ایک قوم، ایک وطن – ہندوستان” کا فلسفہ اس ابدی حقیقت کا آئینہ ہے۔ مذہب، زبان، علاقے یا سماجی پس منظر سے قطع نظر، ہم سب اپنی مشترکہ شناخت بھارتی ہونے اوراپنی قوم کی ترقی کے لیے مشترکہ عزم سے جڑے ہوئے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ وکست بھارت کا وژن محض معاشی ترقی سے پورا نہیں ہو سکتا؛ اسے سماجی ہم آہنگی، ثقافتی فخر، آئینی اقدار اور قومی اتحاد کی بنیادوں پربھی استوار کرنا ہوگا۔

پروفیسرڈاکٹرشاہد اخترنے اپنے خطاب میں اس بات پرزوردیا کہ ‘ایک قوم، ایک وطن – ہندوستان’ کا خیال آئین کی روح اوران تہذیبی اقدارمیں گہرا جڑا ہوا ہے، جنہوں نے صدیوں سے ہندوستان کی رہنمائی کی ہے۔ انہوں نے کہا– “ہمارے عقائد، زبانوں، روایات اورثقافتوں کا تنوع تقسیم کا باعث نہیں، بلکہ ہماری اجتماعی طاقت کی بنیاد ہے۔ ہندوستان نے ہمیشہ یہ ثابت کیا ہے کہ اتحاد اورتنوع ایک ساتھ پھل پھول سکتے ہیں۔” ڈاکٹراختر، جوکمرشل اینڈ بزنس مینجمنٹ میں پی ایچ ڈی ہیں اورجھارکھنڈ اسٹیٹ مائنارٹیزکمیشن کے چیئرمین اور NCPUL کے وائس چیئرمین جیسے عہدوں پررہ چکے ہیں، نے قوم سازی میں تعلیم کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ NCMEI نے تمل ناڈو میں 1170 اداروں کو اقلیتی درجہ دیا ہے، جن میں تقریباً 900 مسیحی برادری کے اور قریب 200 مسلم برادری کے ہیں۔

ڈاکٹرماجد احمد تالیکوٹی، کرناٹک کے معروف کینسرسرجن اور MRM کے قومی رابطہ کار، نے اس مشترکہ انسانیت پرجذباتی طورپرگفتگوکی جوتمام بھارتیوں کوباندھتی ہے۔ انہوں نے کہا – “ہم سب ایک جیسے دکھتے ہیں۔ ہم سب انسان ہیں۔ ہم تمل ناڈو، کرناٹک، کیرلا، پڈوچیری یا تلنگانہ میں ہوسکتے ہیں – لیکن ہم سب بھارتی ہیں۔ ہماری عقیدت، ہمارا ایمان، ہمارا اعتماد، ہماری محبت صرف مادرہند کے لیے ہے۔ متحد رہیں گے توبڑھیں گے، بٹیں گے تومٹیں گے۔”

متھلیش کمار کٹھیریا، راجیہ سبھا ممبر، نے برادری سے تفرقہ انگیز بیانیوں کو مسترد کرنے اور“سب کا ساتھ، سب کا وکاس، سب کا وشواس، سب کا پریاس” کی روح کو اپنانے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے یاد دلایا کہ کووڈ-19 وبا کے دوران پورا ملک مذہب سے بالاتر ہوکرمتحد ہوا اورویکسین اوردوائیں ہرشہری تک یکساں طورپرپہنچیں۔

جنوبی ہند کے لیے ایک نیا باب

اس عوامی اجتماع کا اختتام تمل ناڈواورپورے جنوبی ہند میں MRM کی موجودگی بڑھانے اورتعلیم، برادری کی بہبود، تعمیری مکالمہ اورقومی اتحاد پراپنی توجہ جاری رکھنے کے عزم کے ساتھ ہوا۔ مقررین نے اقلیتی بہبود کے شعبے اوردیگرسرکاری اسکیموں کے تحت دستیاب مختلف فلاحی اقدامات کے بارے میں آگاہی بڑھانے اور برادری کے افراد کوان مواقع سے فائدہ اٹھانے کی ترغیب دی۔

نئے مقررکردہ تمل ناڈو چیف رابطہ کار احمد ملک ودیار نے اپنے جذباتی خطاب میں 15سال کی عمرمیں یتیم ہونے سے لے کرایک کامیاب کاروباری شخصیت بننے تک کا اپنا ذاتی سفرسنایا اورنوجوانوں سے بڑے خواب دیکھنے اورمحنت کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا – “ہرنوجوان جیت سکتا ہے۔ ہم فاتح بن سکتے ہیں۔ ڈاکٹرعبدالکلام صاحب نے کہا تھا کہ پہلے خواب دیکھو، پھر منصوبہ بناو اوراسے حاصل کرو۔ میں یہاں پیسہ کمانے نہیں، بلکہ اپنے ملک اوراپنی برادری کے لیے کام کرنے آیا ہوں۔”

اس پروگرام میں بشپ مائیکل پیٹر نے بھی شرکت کی، جنہوں نے 24 سال تک انجیلی اورچرچ پاسٹورل منسٹری میں خدمات انجام دیں اور 34 سے زائد ممالک کا سفر کیا۔ انہوں نے اتحاد، ہم آہنگی اورامن کی اہمیت پر گفتگو کی اور اس بات پر زور دیا کہ “تنوع ہماری طاقت ہونی چاہیے، کمزوری نہیں۔”

ایک مشترکہ عہد
تقریب کے اختتام پر تمام حاضرین نے ایک اجتماعی عہد کیا – کہ وہ اپنے علاقے کے کم از کم ایک غریب خاندان کے بچے کو تعلیم دیں گے، دو نوجوان طلباء کو کیریئر کی رہنمائی فراہم کریں گے، ہر سہ ماہی میں ایک بین المذاہب خدمتی سرگرمی منعقد کریں گے، اور ہر قسم کی انتہاپسندی، علیحدگی پسندی اور نفرت کو رد کریں گے۔ اس موقع پر ایک پیغام گونج اٹھا – “نہ صرف مسلمان، نہ صرف ہندو، ہم سب ہندوستانی ہیں۔”جے ہند، جے بھارت، ایک قوم، ایک وطن – ہندوستان۔

بھارت ایکسپریس اردو-



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read