نئی دہلی: ممبئی میں بی ایم سی انتخابات سے قبل سیاسی گہماگہمی تیز ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ جمعیۃ حمایت الاسلام کے قومی صدر قاری ابرار جمال نے شیو سینا (اُدھو ٹھاکرے گروپ) کے سامنے ایک اہم اور دوٹوک مطالبہ رکھ دیا ہے۔
قاری ابرار جمال نے شیوسینا سے کیا مطالبہ
قاری ابرار جمال کا کہنا ہے کہ 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں ان کی تنظیم کی حمایت سے تین ارکان پارلیمان منتخب ہوئے، جبکہ اسمبلی انتخابات میں بھی دس نشستوں پر کامیابی میں ان کی تنظیم کا کردار رہا۔ اب بی ایم سی انتخابات کے حوالے سے انہوں نے صاف لفظوں میں کہا ہے کہ اگر ان کی حمایت سے کارپوریٹر منتخب ہوکر آتے ہیں تو ممبئی میونسپل کارپوریشن کا میئر مسلمان ہونا چاہیے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اُدھو ٹھاکرے اس سلسلے میں جلد از جلد عوامی اعلان کریں۔ قاری ابرار جمال نے خبردار کیا کہ اگر ایسا نہیں کیا گیا تو مسلم سماج کی ناراضگی آئندہ انتخابات میں کھل کر سامنے آئے گی۔
سیاسی وعدوں پر سوال
انہوں نے مزید کہا کہ مسلمانوں کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ملک کی کئی سیاسی جماعتوں نے محض کھوکھلے وعدوں اور یقین دہانیوں کے ذریعے مسلم سماج کو مطمئن کرنے کی کوشش کی ہے اور اگر مہاراشٹر میں بھی یہی رویہ اپنایا گیا تو مسلمانوں کو ایسی سیاست سے دوری اختیار کرنی چاہیے۔ قاری ابرار جمال نے دو ٹوک انداز میں کہا: ’’احسان کا بدلہ احسان ہوتا ہے۔ ہم نے حمایت دے کر اپنی ذمہ داری نبھائی ہے، اب ان کی باری ہے کہ وہ اس اعتماد اور قرض کو چکائیں۔‘‘
مولانا لقمان ندوی کا مؤقف
اسی مسئلے پر Companion of Peace & Justice–Mumbai کے ترجمان اور ممبئی کے مذہبی و سیاسی حلقوں میں بااثرشخصیت مولانا لقمان ندوی نے بھی اپنا نقطۂ نظر پیش کیا۔ مولانا لقمان ندوی نے کہا کہ مسلم سماج نے جمہوری عمل میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ہے اور جن قائدین کو حمایت دی گئی، ان سے اب دیانت داری اور وعدوں کی تکمیل کی توقع ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ محض انتخابات کے وقت اعتماد اور یقین دہانی کافی نہیں، بلکہ زمینی سطح پر نمائندگی دے کر سماج کے اعتماد کو برقرار رکھنا ضروری ہے۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ اگر سیاسی جماعتیں مسلم سماج کی توقعات کو سنجیدگی سے نہیں لیتیں تو آنے والے وقت میں اس کے سیاسی اثرات ضرور سامنے آئیں گے۔
سیاسی منظرنامے میں نئی بحث
بی ایم سی انتخابات سے قبل سامنے آنے والے اس بیان نے مہاراشٹر کی سیاست میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے اور اب سب کی نگاہیں اس بات پر مرکوز ہیں کہ اُدھو ٹھاکرے اس مطالبے پر کیا موقف اختیار کرتے ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


