Violence in Andhra Pradesh Local Body Elections: آندھرا پردیش میں بلدیاتی انتخابات کے دوران تشدد، کڑپہ اور تروپتی میں پیٹرول بموں سے ہوئے حملے
منڈل پریشد علاقائی حلقوں (ایم پی ٹی سی) اور ضلع پریشد علاقائی حلقوں (زیڈ پی ٹی سی) کے لیے 31,460 پولنگ مراکز پر صبح 7 بجے ووٹنگ شروع ہوئی۔ ووٹنگ شام 5 بجے تک جاری رہی۔ ریاست بھر میں ضلع پریشد کی 582 اور منڈل پریشد کی 7,767 نشستوں کے لیے ووٹ ڈالے گئے۔
Rajasthan Municipal Elections: ’جھوٹ کی گونج کے سامنے سچ کی فتح!‘ راجستھان بلدیاتی انتخابات میں بی جے پی کی شاندار جیت پر وزیر اعظم مودی خوش
راجستھان کے شہری بلدیاتی انتخابات میں بی جے پی نے 4,171 وارڈ جیتے، کانگریس کو 3,597 وارڈوں پر کامیابی ملی، وزیر اعظم مودی نے اسے ڈبل انجن حکومت کی ترقیاتی پالیسیوں پر عوام کی مہر قرار دیا
Amit Shah casts vote: گجرات بلدیاتی انتخابات میں وزیرداخلہ امت شاہ نے اہل خانہ کے ساتھ ڈالا ووٹ، عوام سے بھرپور شرکت کی اپیل
گجرات میں یہ انتخابات 15 میونسپل کارپوریشنز سمیت کئی بلدیاتی اداروں کے لیے ہو رہے ہیں، جن میں احمد آباد، سورت، وڈودرا اور راجکوٹ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ 84 میونسپلٹیز، 34 ضلع پنچایت اور 260 تعلقہ پنچایتوں کے لیے بھی ووٹنگ جاری ہے۔
Telangana-Jharkhand Local Body Elections: تلنگانہ اور جھارکھنڈ میں بلدیاتی انتخابات کا اعلان، بیلٹ پیپر سے ووٹنگ پر تنازعہ، بی جے پی برہم
مہاراشٹر کے بعد اب تلنگانہ اور جھارکھنڈ میں بھی بلدیاتی انتخابات کا بگل بج چکا ہے۔ دونوں ریاستوں کے ریاستی الیکشن کمیشن نے مقامی شہری اداروں کے انتخابات کے شیڈول کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔
BMC Exit polls: ایگزٹ پولز میں بی جے پی قیادت والی مہایوتی کی جیت کا اندازہ، بی ایم سی انتخابات میں کون لے جائے گا سبقت، کل ہوگا فیصلہ
تمام ایگزٹ پولز کے باوجود حتمی فیصلہ جمعہ کو ووٹوں کی گنتی کے بعد ہی سامنے آئے گا، جس سے یہ طے ہوگا کہ ممبئی کی سیاست میں کس اتحاد کا پلڑا بھاری رہا۔
BMC elections 2026: برہن ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) انتخابات سے قبل مسلم میئر کا مطالبہ، اُدھو ٹھاکرے کی شیوسینا کو ملا الٹی میٹم
جمعیۃ حمایت الاسلام کے قومی صدر قاری ابرار جمال کا انتباہ، قاری ابرار جمال نے خبردار کیا کہ اگر ایسا نہیں کیا گیا تو مسلم سماج کی ناراضگی آئندہ انتخابات میں کھل کر سامنے آئے گی۔ کمپینئن آف پیس اینڈ جسٹس-ممبئی کے ترجمان مولانا لقمان ندوی نے بھی اپنا سخت رخ۔





