مرادآباد: اتر پردیش کے مرادآباد ضلع میں سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے بلاری اسمبلی حلقے سے رکن اسمبلی محمد فہیم عرفان اور ان کے اہلِ خانہ کو بڑا انتظامی اور سیاسی جھٹکا لگا ہے۔ ضلع انتظامیہ نے جانچ کے بعد فہیم عرفان اور ان کے خاندان کے ذات کے سرٹیفکیٹس کو جعلی قرار دیتے ہوئے منسوخ کر دیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد نہ صرف ان کی قانونی مشکلات بڑھنے کا خدشہ ہے بلکہ سیاسی سطح پر بھی اس کے دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ یہ کارروائی وشواس یادو عرف لَوَلی کی جانب سے درج کرائی گئی شکایت کے بعد کی گئی۔ شکایت میں الزام لگایا گیا تھا کہ فہیم عرفان اور ان کے خاندان نے پسماندہ طبقے کی ’’جھوجا‘‘ ذات سے تعلق ظاہر کرتے ہوئے جعلی ذات سرٹیفکیٹ بنوائے ہیں۔ 19 جولائی 2024 کو یہ شکایت ضلع سطحی جانچ کمیٹی کے سامنے پیش کی گئی تھی، جس کے بعد تفصیلی جانچ کا عمل شروع ہوا۔
جانچ مکمل ہونے کے بعد ضلع سطحی کمیٹی نے اپنے فیصلے میں کہا کہ فہیم عرفان اور ان کے اہلِ خانہ جھوجا ذات سے تعلق نہیں رکھتے، اس لیے انہیں جاری کیے گئے ذات کے سرٹیفکیٹس قانونی طور پر درست نہیں ہیں۔ کمیٹی کی سفارش پر ضلع مجسٹریٹ مرادآباد سمیت چار اعلیٰ افسران نے احکامات پر دستخط کیے، جس کے بعد سرکاری طور پر ان سرٹیفکیٹس کو منسوخ کر دیا گیا۔ انتظامیہ کی کارروائی کے دائرے میں فہیم عرفان کے ساتھ ان کے چچا محمد عثمان اور ان کی بیٹیاں فرہین اور سمرین بھی شامل ہیں، جن کے ذات کے سرٹیفکیٹس بھی رد کر دیے گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق یہ فیصلہ مستقبل میں انتخابی اہلیت اور دیگر سرکاری فوائد پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے، جس کے باعث فہیم عرفان کی مشکلات میں اضافہ یقینی مانا جا رہا ہے۔
اس معاملے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے سماج وادی پارٹی کے سابق رکنِ پارلیمنٹ ایس ٹی حسن نے انتظامیہ کے فیصلے کو ’’سیاسی ناانصافی‘‘ قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فہیم عرفان کے پاس سال 2011 سے جھوجا ذات سے متعلق مضبوط اور ٹھوس ثبوت موجود ہیں۔ ایس ٹی حسن کے مطابق، ’’کسی کے ساتھ اس طرح کی ناانصافی نہیں ہونی چاہیے۔ اگر انتظامیہ نے یہ فیصلہ کیا ہے تو اپیل اور عدالت کا راستہ کھلا ہے۔ جہاں تک ہماری معلومات ہیں، فہیم عرفان کے پاس اپنی ذات سے متعلق پختہ شواہد موجود ہیں‘‘۔ سابق رکنِ پارلیمنٹ نے مزید کہا کہ اگر انتظامی سطح پر انصاف نہیں ملتا تو عدالت جانا ہر شہری کا آئینی حق ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سیاسی بنیادوں پر کسی کو نشانہ بنانا جمہوری اقدار کے خلاف ہے اور اس طرح کے فیصلے سیاست میں تلخی پیدا کرتے ہیں۔
اسی دوران ایس ٹی حسن نے وندے ماترم سے متعلق نئی ہدایات پر بھی ردعمل ظاہر کیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت ایک کثرت میں وحدت والا ملک ہے اور یہی اس کی سب سے بڑی طاقت ہے۔ ان کے مطابق، بہت سے مسلمان وندے ماترم کو عبادت کے مترادف سمجھتے ہیں، جبکہ ان کے مذہب میں زمین کی پوجا کی اجازت نہیں ہے۔ انہوں نے سپریم کورٹ کے سابقہ فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کسی کو بھی کسی مخصوص عمل یا گیت گانے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ فی الحال فہیم عرفان اور ان کے خاندان کے لیے قانونی اور سیاسی راستے کھلے ہوئے ہیں، تاہم ذات کے سرٹیفکیٹس کی منسوخی نے ان کی سیاسی ساکھ اور مستقبل پر کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ اب سب کی نظریں اس بات پر ٹکی ہیں کہ وہ انتظامیہ کے اس فیصلے کے خلاف کس فورم پر اور کس طرح اپنی لڑائی آگے بڑھاتے ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


