نئی دہلی: ویسے تو راشٹریہ سیوم سیوک سنگھ (آرایس ایس) خود کوسیاست سے دوررکھنے کی بات کرتا ہے، لیکن عام خیال یہی ہے کہ ملک کی موجودہ سیاست میں اقتدارکے پہیوں کو کہیں نہ کہیں رفتارناگپور واقع آرایس ایس ہیڈ کوارٹرسے ہی ملتی ہے۔ وہیں مسلمانوں کے تئیں آرایس ایس کے نظریے پربھی وقت وقت پرسوال اٹھتے رہے ہیں۔ ان سوالوں کے ساتھ ہی آرایس ایس اورمسلمانوں کے درمیان کی دوری کو پاٹنے کی پہل بھی کی جا رہی ہے۔ انہیں کوششوں کے تحت دہلی واقع ہریانہ بھون میں آج آرایس ایس اورمسلمانوں کی ایک بڑی میٹنگ ہوئی۔ اس میٹنگ میں آرایس ایس سربراہ موہن بھاگوت، دتاتریے ہوسبلے، کرشن گوپال، اندریش کماراوررام لال سمیت آرایس ایس کی اعلیٰ قیادت نے مسلم مذہبی رہنماؤں اوردانشوروں کے ساتھ بات چیت کی۔
آرایس ایس نے میٹنگ کو ’’مثبت‘‘ بتایا
آل انڈیا امام آرگنائزیشن کے چیف امام ڈاکٹرمولانا عمیراحمد الیاسی کی طرف سے اس میٹنگ کا انعقاد کیا گیا، جس میں 60 امام، مفتی اورمدارس کے مہتمم موجود تھے۔ یہ میٹنگ تقریباً ساڑھے تین گھنٹے تک چلی اوراس میں مسلمانوں سے متعلق اہم قومی موضوعات پرتبادلہ خیال کیا گیا اور یہ رضامندی بنی کہ بات چیت کا یہ سلسلہ برقرار رہے گا۔ آرایس ایس نے میٹنگ کو’’مثبت‘‘ بتاتے ہوئے کہا کہ یہ سماج کے سبھی طبقات کے ساتھ بڑے پیمانے پر بات چیت کے ’’مستقل عمل‘‘ کا حصہ ہے، جس کا مقصد یہ ہے کہ ملک کے مفاد میں سبھی لوگ مل کرکیسے کام کر سکتے ہیں۔ آرایس ایس کے میڈیا ڈپارٹمنٹ کے سربراہ سنیل امبیکرنے کہا، “یہ سماج کے تمام طبقات کے ساتھ وسیع مکالمے کا ایک مسلسل عمل ہے۔ اس کا بنیادی مقصد یہ جاننا ہے کہ ملک کے مفاد میں سب مل کرکیسے کام کرسکتے ہیں۔ آج کی میٹنگ بھی مثبت رہی۔”
غلط فہمیوں کو دور کرنے کی ضرورت: مسلم دانشوران
اس موقع پرمولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی، حیدرآباد کے سابق چانسلرفیروزبخت احمد نے کہا کہ دونوں فریق کے درمیان بہترتال میل کے لئے کچھ غلط فہمیوں کودورکرنے کی ضرورت ہے۔ دونوں فریق اسے مستقل، ٹھوس اورتعاون پرمبنی طریقے سے دورکرسکتے ہیں۔ قابل ذکرہے کہ فیروزبخت احمد عام طورپرآرایس ایس اوربی جے پی کے حق میں آواز اٹھاتے رہے ہیں۔
ایک دوسرے کا بھروسہ کیسے جیت سکتے ہیں؟
ایک دوسرے کا اعتماد جیتنے کے لیے دونوں اطراف سے مربوط اقدامات کی ضرورت ہے۔ فیروزبخت احمد نے کہا کہ دونوں فریقوں کے درمیان بڑھتے ہوئے اعتماد کے فقدان کی تازہ ترین مثال موجودہ وقف ترمیمی بل ہے۔ یہ اچھی بات ہے کہ یہ بل پچھلے نظام کی بے ضابطگیوں کو دورکرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ سابقہ نظام میں عام مسلمان بیوہ، غریب طالب علم، ضرورت مند بزرگ شہری یا کسی اوربے سہارا کوکبھی کسی قسم کی مدد نہیں ملی۔ سابقہ وقف نظام کرپٹ اوربوسیدہ تھا کیونکہ اس کے نگراں صرف بے سہارا لوگوں کے پیسے لوٹتے تھے۔ موجودہ حکومت اس میں مثبت تبدیلی لے کرآئی ہے، لیکن سادہ لوح مسلمانوں سے کہا جا رہا ہے کہ بی جے پی ان کی مساجد، مدرسے، قبرستان اوریتیم خانے وغیرہ کولوٹ لے گی، جوکہ سراسرغلط ہے اورعوام میں کنفیوژن کا ماحول ہے۔
مسلمانوں کو آرایس ایس پربھروسہ کرنا چاہئے
فیروزبخت احمد نے کہا کہ مسلمانوں کو اپنی آرایس ایس/بی جے پی مخالف نظریے میں تبدیلی لانی ہوگی۔ الیکشن کے دوران انہیں اس امیدوارکوووٹ دینے کا راگ نہیں الاپنا چاہئے، جوبی جے پی کو ہراسکتا ہے۔ شاید انہیں یہ نہیں معلوم کہ اسی عمل نے بی جے پی کے ووٹوں کے مضبوط کیا ہے۔ جبکہ مسلم ووٹ شاید ہی متحد ہوتے ہیں۔ آخر کار بی جے پی امیدوارجیت جاتا ہے اور مسلم علاقوں کو نظرانداز کرتا ہے، جو اسے نہیں کرنا چاہئے۔ موہن بھاگوت کے بارے میں فیروزبخت احمد کا کہنا ہے کہ وہ ایک پُرامن اور بھارت کے ایک نیک نیت روحانی پیشوا ہیں، جنہوں نے کبھی مسلمانوں کی توہین نہیں کی۔ بلکہ موہن بھاگوت ہمیشہ مسلمانوں اورآرایس ایس کے درمیان پُل بننے کی کوشش کرتے رہے ہین کہ زندگی کے سبھی حلقوں میں مسلمانوں کے تعاون کے بغیر ہندوستان کا تصورنہیں کیا جاسکتا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


