نئی دہلی میں منعقدہ بھارت ایکسپریس میگا کانکلیو میں مرکزی وزیر سی آر پاٹل نے وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت کو ترقی یافتہ بھارت کے خواب کی بنیاد قرار دیا۔ اس موقع پر انہوں نے اپنی سیاسی زندگی، بی جے پی میں شمولیت، جل شکتی وزارت کی کامیابیوں اور انتخابی تجربات پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔
سی آر پاٹل نے بتایا کہ انہیں بھارتیہ جنتا پارٹی میں شامل ہونے کا موقع سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی نے دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ان کے پاس ایک تاریخی تصویر موجود ہے جس میں واجپائی انہیں پارٹی میں شامل کرتے ہوئے ہار پہنا رہے ہیں۔ پاٹل نے کہا کہ 1991 سے وہ نریندر مودی کے رابطے میں آئے اور ان کے کام کرنے کے انداز سے بہت کچھ سیکھا۔ ان کے مطابق مودی نے انہیں یہ سکھایا کہ تنظیم کے ساتھ مضبوطی سے جڑنا، دیانت داری کے ساتھ کام کرنا اور مقررہ وقت پر کام مکمل کرنا ایک کامیاب قیادت کی اصل پہچان ہے۔
انہوں نے اپنے خطاب میں پاکستان کے حوالے سے بھی سخت مؤقف کا ذکر کیا۔ پاٹل نے کہا کہ وزیر اعظم مودی نے واضح طور پر کہا ہے کہ “دہشت گردی اور پانی ایک ساتھ نہیں چل سکتے”۔ ان کے مطابق جب حکومت نے یہ فیصلہ کر لیا ہے تو پاکستان کو ایک قطرہ پانی بھی نہیں دیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ دریائے سندھ کا پانی بارہ مہینے دستیاب رہتا ہے اور اس سے جموں و کشمیر، پنجاب، ہریانہ، دہلی اور راجستھان جیسے کئی ریاستوں کی ضروریات پوری کی جا سکتی ہیں۔ اس منصوبے پر تیزی سے کام جاری ہے اور جلد ہی ان ریاستوں کو اس کا فائدہ ملے گا۔
سی آر پاٹل نے “ہر گھر نل سے جل” اسکیم کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ 2014 میں وزیر اعظم مودی نے محسوس کیا کہ دیہی علاقوں میں خواتین کو پانی لانے کے لیے دور دراز جانا پڑتا ہے۔ اسی مسئلے کو حل کرنے کے لیے یہ منصوبہ شروع کیا گیا۔ اس وقت صرف 3.29 کروڑ گھروں تک پانی کی سہولت موجود تھی، لیکن اب تک 12.58 کروڑ نئے کنکشن دیے جا چکے ہیں اور مجموعی طور پر 15.85 کروڑ گھروں تک پینے کا پانی پہنچ چکا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وزیر خزانہ نرملا سیتارمن نے اس منصوبے کو 2028 تک بڑھا دیا ہے اور اس کے لیے 67,600 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔
انہوں نے صفائی مہم کے حوالے سے بھی بتایا کہ ترقی یافتہ بھارت کی سمت میں سب سے پہلے گھروں میں بیت الخلا تعمیر کیے گئے۔ حکومت نے تقریباً 12 کروڑ بیت الخلا بنوا کر خواتین کی سلامتی کو یقینی بنایا۔ پہلے خواتین کو رات کے اندھیرے میں باہر جانا پڑتا تھا جس سے کئی مسائل پیدا ہوتے تھے۔ عالمی ادارہ صحت کی ایک رپورٹ کے مطابق کھلے میں رفع حاجت کی وجہ سے ہر سال ہزاروں بچوں کی موت واقع ہوتی تھی، لیکن اب صورتحال میں نمایاں تبدیلی آئی ہے۔
سی آر پاٹل نے کہا کہ “نل سے جل” اسکیم سے تقریباً 9 کروڑ خواتین کو روزانہ پانی لانے کی مشقت سے نجات ملی ہے۔ پہلے انہیں دور دراز جانا پڑتا تھا اور اکثر آلودہ پانی پینا پڑتا تھا جس سے بیماریوں کا خطرہ بڑھ جاتا تھا۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق گندے پانی کے باعث ملک میں تقریباً 8.4 لاکھ کروڑ روپے تک طبی اخراجات ہوتے تھے۔ اب خواتین کا وقت بچ رہا ہے اور وہ بچوں کی تعلیم اور دیگر معاشی سرگرمیوں پر زیادہ توجہ دے سکتی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ حکومت نے 24.80 لاکھ خواتین کو پانی کے معیار کی جانچ کی تربیت دی ہے جبکہ 8 لاکھ خواتین نے آن لائن پورٹل پر اپنی رپورٹس بھی جمع کرائی ہیں۔
اپنے انتخابی تجربات کا ذکر کرتے ہوئے پاٹل نے کہا کہ 2015 میں وہ بہار کے شریک انچارج تھے۔ ان کے مطابق ذات پات کی سیاست عام لوگوں میں کم اور سیاست دانوں میں زیادہ نظر آتی ہے۔ دیہات میں لوگ مل جل کر رہتے اور کام کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نریندر مودی اور نتیش کمار کی قیادت میں کام کرنا آسان ہو گیا تھا۔ انہیں 78 اسمبلی نشستوں کی ذمہ داری دی گئی تھی جن میں سے 68 نشستوں پر کامیابی حاصل ہوئی۔
گجرات کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہاں 182 نشستیں جیتنے کا ہدف رکھا گیا تھا، جن میں سے 156 نشستیں جیتی گئیں جبکہ تقریباً 20 نشستیں بہت کم فرق سے ہار گئے۔ پاٹل کے مطابق گجرات میں تقریباً ہر گھر میں مودی کے لیے خاص لگاؤ پایا جاتا ہے، اسی وجہ سے وہاں انتخاب لڑنا نسبتاً آسان ہوتا ہے۔
اس طرح سی آر پاٹل نے بھارت ایکسپریس میگا کانکلیو میں اپنی سیاسی جدوجہد، جل شکتی وزارت کی کامیابیوں اور انتخابی تجربات کو تفصیل سے بیان کرتے ہوئے کہا کہ مودی کی قیادت ہی ترقی یافتہ بھارت کے خواب کو حقیقت میں بدلنے کی بنیاد ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



