امریکہ میں موجود بھارت کے آل پارٹی پارلیمانی وفد نے واشنگٹن ڈی سی میں اہم امریکی قانون سازوں سے ملاقات کی، جس میں بھارت-امریکہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے اور پاکستان کی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کے خلاف متحدہ موقف اپنانے پر زور دیا گیا۔ وفد کی قیادت کانگریس کے سینئر رہنما ششی تھرور نے کی۔
اس ملاقات کے بعد امریکی کانگریس مین اور انڈیا کاکس کے شریک چیئر رچ مک کارمک (Rich McCormick) نے کہا کہ ’’یہ ایک شاندار میٹنگ تھی۔ ہم نے زبردست خیالات کا تبادلۂ کیا۔ بھارت اور امریکہ صرف دوست نہیں بلکہ مضبوط اتحادی ہیں اور دنیا کے مستقبل کا انحصار اسی رشتے پر ہے۔‘‘ ان کے ہم منصب اور انڈیا کاکس کے دوسرے شریک چیئر رو کھنہ (Ro Khanna) نے بھی وفد کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ’’یہ وفد بھارت کی کثرت میں وحدت، مختلف مذاہب اور سیاسی جماعتوں کی نمائندگی کرتا ہے اور سب اس بات پر متفق ہیں کہ پاکستان کی طرف سے ہونے والا دہشت گرد حملہ ناقابل قبول ہے۔‘‘
دہشت گردی کے خلاف ہندوستان کی امریکہ کی واضح حمایت حاصل
انھوں نے مزید کہا کہ امریکہ میں دو جماعتی (bipartisan) سطح پر بھارت سے تعلقات کے لیے مضبوط عزم موجود ہے اور پاکستان میں موجود دہشت گرد نیٹ ورکس کو ختم کرنے کے لیے ہم بھارت کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ششی تھرور نے ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہمیں امریکی کانگریس کے اراکین کی جانب سے پہلگام دہشت گرد حملے اور اس کے بعد بھارت کی کارروائی پر بھرپور حمایت ملی۔ رچ مک کارمک بھارت-امریکہ تعلقات کے مستقبل، معیشت اور عالمی اسٹریٹجک امور کو لے کر بہت پرجوش تھے۔‘‘ واضح رہے کہ اس وفد میں ششی تھرور کے علاوہ سرفراز احمد، جی ہریش مادھر، ششانک ترپاٹھی، بھوونیشور کلیتا، تیجسوی سوری اور ترنجیت سنگھ سندھو شامل ہیں۔
آپریشن سندور پر بریفنگ اور عالمی حمایت کا حصول
اس ملاقات کے دوران وفد نے امریکی قانون سازوں کو آپریشن سندور کے بارے میں بریف کیا۔ یہ آپریشن 7 مئی کو پہلگام حملے کے جواب میں شروع کیا گیا تھا، جس میں بھارت نے پاکستان اور پاکستان کے زیرِ قبضہ کشمیر میں دہشت گرد ٹھکانوں کو نشانہ بنایا تھا۔ امریکہ میں بھارتی سفارت خانے نے ایک بیان میں کہا کہ ’’کانگریس اراکین نے دہشت گردی پر بھارت کے زیرو ٹالرنس موقف کی کھل کر حمایت کی اور بھارت کے جواب دینے کے حق کو جائز قرار دیا۔‘‘
سفارتی و سماجی سطح پر بھرپور مصروفیات
اس وفد نے صرف قانون سازوں سے نہیں بلکہ اہم تھنک ٹینکس، میڈیا اداروں اور Council on Foreign Relations (CFR) میں بھی بات چیت کی۔ اس کے ساتھ ہی بھارتی نژاد امریکی کمیونٹی کے افراد سے ملاقاتوں کا بھی اہتمام کیا گیا تاکہ عوامی سطح پر ربط مضبوط ہو۔ یہ سفارتی دورہ اس بات کی نشان دہی کرتا ہے کہ بھارت عالمی سطح پر نہ صرف اپنا مؤقف مؤثر انداز میں پیش کر رہا ہے، بلکہ دہشت گردی، قومی سلامتی، اور عالمی شراکت داری جیسے اہم امور پر واضح اور مضبوط پالیسی اختیار کر چکا ہے۔ ساتھ ہی بھارت-امریکہ تعلقات نئی جہت کی طرف بڑھ رہے ہیں اور یہ پارلیمانی وفد اس کا عملی مظہر ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


