Bharat Express DD Free Dish

Delhi Cop Sparks Row by Calling Bengali ‘Bangladeshi’: دہلی پولیس افسر کے ذریعے بنگالی زبان کو ’’بنگلہ دیشی زبان‘‘ کہنے پر مچا ہنگامہ، ممتابنرجی نے مرکزی حکومت اور امت شاہ پر سادھا نشانہ

بی جے پی آئی ٹی سیل کے سربراہ امت مالویہ نے ممتا بنرجی پر ’’غیرقانونی بنگلہ دیشی دراندازوں‘‘ کا دفاع کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ووٹ بینک کی سیاست کے لیے قومی سلامتی سے سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

دہلی پولیس کی جانب سے ایک سرکاری خط میں بنگالی زبان کو ’’بنگلہ دیشی زبان‘‘ کہنے پر مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے مرکزی حکومت پر سخت تنقید کی ہے۔ انھوں نے اسے ’’شرمناک، توہین آمیز، غیرآئینی اور ملک دشمن‘‘ عمل قرار دیا۔ واضح رہے کہ دہلی کے لودھی کالونی تھانے کے انسپکٹر امت دت نے مغربی بنگال کے بنگا بھون کو ایک خط میں مبینہ طور پر بنگالی زبان کو ’’بنگلہ دیشی زبان‘‘ لکھا ہے۔

ممتا بنرجی نے خط کی تصویر شیئر کرتے ہوئے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’’رابندرناتھ ٹیگور اور سوامی وویکانند کی زبان، جس میں ہمارا قومی ترانہ اور قومی گیت لکھے گئے، آج اسے بنگلہ دیشی زبان کہا جا رہا ہے۔ یہ نہ صرف توہین ہے بلکہ ملک کے آئین پر حملہ ہے۔‘‘ انھوں نے اس واقعے کے خلاف ملک گیر احتجاج کی اپیل بھی کی۔ دریں اثنا ترنمول کانگریس کے جنرل سیکرٹری ابھشیک بنرجی نے اسے ’’بنگالی شناخت کو مٹانے کی سازش‘‘ قرار دیا اور مطالبہ کیا کہ متعلقہ پولیس افسر کو فوراً معطل کیا جائے اور بی جے پی اور وزیر داخلہ امت شاہ کو اس کے لیے معافی مانگنی چاہیے۔

بی جے پی نے کیا دہلی پولیس کا دفاع

 

دوسری جانب بی جے پی کی مغربی بنگال یونٹ کے صدر سامک بھٹاچاریہ نے دہلی پولیس کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ زبان کا ذکر ’’بالکل درست‘‘ تناظر میں کیا گیا ہے۔ وہیں بی جے پی آئی ٹی سیل کے سربراہ امت مالویہ نے ممتا بنرجی پر ’’غیرقانونی بنگلہ دیشی دراندازوں‘‘ کا دفاع کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ووٹ بینک کی سیاست کے لیے قومی سلامتی سے سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

اس دوران بائیں بازو کی جماعتوں نے ممتا بنرجی کا ساتھ دیا ہے۔ سی پی آئی (ایم) کے ریاستی سیکریٹری محمد سلیم نے دہلی پولیس کے خط کو سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہوئے اسے ’’جہالت کی انتہا‘‘ قرار دیا۔ انھوں نے کہا کہ ’’کیا دہلی پولیس بتا سکتی ہے کہ بنگلہ دیشی زبان کیا ہوتی ہے؟ کیا انھوں نے آئین کے آٹھویں شیڈیول کا مطالعہ نہیں کیا؟‘‘ وہیں سی پی آئی (ایم ایل) لبریشن کے رہنما دیپنکر بھٹاچاریہ نے بھی اس اقدام کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ’’یہ فاشزم کی وہ شکل ہے جو بھارت کے لسانی اور ثقافتی تنوع پر حملہ آور ہو رہی ہے۔ بنگالی مزدوروں کو ’بنگلہ دیشی‘ کہنے کے بعد اب بنگالی زبان کو ہی ہندوستانی زبان ماننے سے انکار کیا جا رہا ہے۔‘‘

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read