تحریر: خالد مصطفیٰ
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی ڈیڑھ سو سالہ تاریخ میں بہت سے نام آئے، بہت سے ادوار گزرے، بہت سے وائس چانسلرز نے اس عظیم درسگاہ کی قیادت کی، مگر بعض شخصیات ایسی ہوتی ہیں جو محض ایک انتظامی عہدہ سنبھالنے سے نہیں بلکہ تاریخ میں ایک نئی سطر کا اضافہ کرنے سے پہچانی جاتی ہیں۔ پروفیسر نعیمہ خاتون کا نام بھی انہی شخصیات میں شامل ہو چکا ہے۔
سر سید احمد خان نے جب 1875 میں مدرسۃ العلوم کی بنیاد رکھی تھی تو ان کے ذہن میں ایک ایسا ہندوستان تھا جہاں مسلمان جدید تعلیم کے ذریعے عزت، وقار اور قیادت حاصل کریں۔ ان کا خواب صرف مردوں کی تعلیم تک محدود نہیں تھا بلکہ وہ ایک ایسے معاشرے کی تشکیل چاہتے تھے جہاں علم ہر گھر کی روشنی بنے۔
شاید سر سید احمد خان نے بھی یہ تصور کیا ہوگا کہ ایک دن ان کے لگائے ہوئے اس شجرِ سایہ دار کی قیادت ایک ایسی خاتون کے ہاتھوں میں ہوگی جو علم، وقار، شائستگی اور تعلیمی بصیرت کی علامت بن جائے گی۔
پروفیسر نعیمہ خاتون کی بطور وائس چانسلر تقرری محض ایک انتظامی فیصلہ نہیں تھی بلکہ یہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی تاریخ میں ایک نئے دور کا آغاز تھا۔ سو سال سے زائد عرصے میں پہلی مرتبہ ایک خاتون کا اس منصب تک پہنچنا اس بات کا اعلان تھا کہ سر سید کی تحریک آج بھی ارتقا کے سفر پر گامزن ہے۔
یہ صرف نعیمہ خاتون کی ذاتی کامیابی نہیں بلکہ ہندوستان کی لاکھوں مسلم بچیوں کے خوابوں کی تعبیر ہے۔ یہ پیغام ہے کہ تعلیم، محنت اور صلاحیت کے ذریعے ہر منزل حاصل کی جا سکتی ہے۔
آج جب دنیا مصنوعی ذہانت، جدید سائنس اورعالمی مسابقت کے دور میں داخل ہو چکی ہے، ایسے وقت میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی قیادت ایک ماہر تعلیم اور محقق کے ہاتھوں میں ہونا خود ایک خوش آئند حقیقت ہے۔ پروفیسر نعیمہ خاتون نے اپنی پوری علمی زندگی تدریس، تحقیق اور طالبات کی رہنمائی کے لیے وقف کی۔
ویمنز کالج کی پرنسپل کے طور پر ان کی خدمات ہوں یا یونیورسٹی کے مختلف تعلیمی و انتظامی شعبوں میں ان کا کردار، ہر جگہ ان کی شناخت ایک سنجیدہ ماہر تعلیم، باوقار منتظم اور طلبہ دوست استاد کی رہی ہے۔
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی صرف اینٹ اور پتھر کی عمارتوں کا نام نہیں۔ یہ ایک تہذیب ہے، ایک روایت ہے، ایک فکر ہے۔ اس فکر کو آگے بڑھانے کے لیے جس وژن، تحمل اور تعلیمی بصیرت کی ضرورت ہوتی ہے، وہ پروفیسر ننعیمہ خاتون کی شخصیت میں نمایاں طور پر دیکھی جا سکتی ہے۔
آج جب AMU کے کیمپس میں ہزاروں طالبات داخل ہوتی ہیں تو ان کے سامنے ایک زندہ مثال موجود ہے کہ اگرعزم مضبوط ہو تو کوئی رکاوٹ منزل تک پہنچنے سے نہیں روک سکتی۔
اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ گزشتہ ڈیڑھ سو برس میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی نے لاکھوں ڈاکٹر، انجینئر، سائنس دان، پروفیسر، جج، سفارت کار، فوجی افسر اور سیاست دان پیدا کیے ہیں۔ لیکن ایک تعلیمی ادارے کی اصل طاقت اس وقت ظاہر ہوتی ہے جب وہ وقت کے ساتھ خود کو تبدیل کرتے ہوئے نئی نسل کی قیادت کے لیے نئے راستے کھولے۔ پروفیسر نعیمہ خاتون کی قیادت اسی تبدیلی کی علامت ہے۔
آج ہندوستان کے مسلمانوں کے سامنے سب سے بڑا سوال یہ نہیں کہ ان کے پاس کتنی زمین ہے، کتنی جائیداد ہے یا کتنی دولت ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ ان کے گھروں میں کتنی تعلیم ہے۔
جائیدادیں تقسیم ہو جاتی ہیں، دکانیں بند ہو جاتی ہیں، کاروبار ختم ہو جاتے ہیں، لیکن تعلیم وہ سرمایہ ہے جو نسلوں تک باقی رہتا ہے۔
سر سید احمد خان نے اپنی قوم کو یہی سبق دیا تھا اور پروفیسر نعیمہ خاتون کی کامیابی اسی سبق کی جدید مثال ہے۔
اگر ایک عام گھر کی بیٹی تعلیم کے ذریعے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے سب سے اعلیٰ منصب تک پہنچ سکتی ہے تو ہندوستان کے ہر مسلمان گھر کا بچہ اور بچی بھی اپنی محنت کے ذریعے دنیا کی بلند ترین منزلیں حاصل کر سکتے ہیں۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے بچوں کے لیے پلاٹ خریدنے سے پہلے ان کی تعلیم میں سرمایہ کاری کریں، نئی جائیداد بنانے سے پہلے ان کے مستقبل کی تعمیر کریں اور دولت جمع کرنے سے پہلے علم جمع کریں۔
کیونکہ آنے والی نسلیں ہمارے نام سے نہیں، ہمارے دیے ہوئے علم سے پہچانی جائیں گی۔
پروفیسر نعیمہ خاتون کی شخصیت ہمیں یہی پیغام دیتی ہے کہ تعلیم صرف ملازمت حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں بلکہ قوموں کی تقدیر بدلنے کا سب سے مؤثر ہتھیار ہے۔
سرسید احمد خان نے ایک چراغ روشن کیا تھا۔ آج علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اسی چراغ کی روشنی میں آگے بڑھ رہی ہے اور پروفیسرنعیمہ خاتون اس روشنی کو نئی نسل تک پہنچانے والی اہم شخصیات میں شمار کی جا رہی ہیں۔
تاریخ جب اکیسویں صدی کے تیسرے عشرے کا ذکر کرے گی توعلی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے سفرمیں پروفیسر نعیمہ خاتون کا نام ایک ایسے باب کے طور پر یاد رکھا جائے گا جس نے روایت اور جدت کے درمیان ایک خوبصورت پل تعمیر کیا۔
تعلیم زندہ رہے گی، علی گڑھ زندہ رہے گا، اور سر سید کا خواب نسل در نسل نئی تعبیریں حاصل کرتا رہے گا۔
اختتامی پیغام
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی صرف ایک درسگاہ نہیں بلکہ ہندوستانی مسلمانوں کی تعلیمی شناخت ہے، اور پروفیسرنعیمہ خاتون اس عظیم روایت کو نئی نسل تک پہنچانے کا تاریخی فریضہ انجام دے رہی ہیں۔
“اپنے بچوں کو جائیداد نہیں، علی گڑھ جیسی تعلیم دیں”
“اگر مسلمان اپنی زمینوں، دکانوں اور جائیدادوں کا ایک حصہ بھی اپنی اولاد کی اعلیٰ تعلیم پر خرچ کرنے لگیں تو آنے والی نسلیں دنیا کی قیادت کر سکتی ہیں۔
اے ملتِ اسلامیہ!
اپنے بچوں کے لیے پلاٹ مت خریدیے، ان کے لیے کتاب خریدیے۔
ان کے لیے صرف مکان مت بنائیے، ان کا مستقبل بنائیے۔
انہیں صرف وراثت مت دیجیے، انہیں تعلیم دیجیے۔
کیونکہ جائیداد چند سال بعد تقسیم ہو جاتی ہے، مگر تعلیم نسلوں تک خاندانوں کی تقدیر بدلتی رہتی ہے۔
سرسید احمد خان نے یہی پیغام دیا تھا، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی آج بھی اسی پیغام کی امین ہے اور پروفیسر نعیمہ خاتون اسی روشن روایت کی ایک کامیاب اور تاریخی علامت ہیں۔ پروفیسرنعیمہ خاتون کی صورت میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اسی پیغام کو نئی طاقت کے ساتھ آگے بڑھا رہی ہے۔”
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔




