نئی دہلی: جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا محمود مدنی نے جمعہ کے روزایک اہم انٹرویو میں راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آرایس ایس) کے سربراہ موہن بھاگوت کے حالیہ بیانات کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ مسلم کمیونٹی اور آرایس ایس کے درمیان مکالمہ ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی تنظیم پہلے ہی اس حوالے سے قرارداد منظور کرچکی ہے اور اختلافات کے باوجود کوشش ہونی چاہیے کہ ان میں کمی لائی جائے۔ مولانا محمود مدنی نے کہا کہ گیان واپی، متھرا اور کاشی جیسے معاملات پرآرایس ایس کی کوششوں کو سراہا جانا چاہیے۔ انہوں نے زوردیا کہ ہر قسم کے مکالمے اور بات چیت کی حمایت کی جائے گی تاکہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو فروغ دیا جا سکے۔
“Ready for engagement on Gyanvapi, Kashi and Mathura”: Mahmood Madani backs RSS’ suggestion
Read story @ANI: https://t.co/iqYUpPOjH6#MahmoodMadani #PM #Islamicscholar pic.twitter.com/ghlxcyOm5h
— ANI Digital (@ani_digital) September 5, 2025
ایک خصوصی انٹرویو میں اے این آئی سے بات کرتے ہوئے محمود مدنی نے کہا کہ ان کی تنظیم پہلے ہی باہمی روابط کے حق میں قرارداد منظور کر چکی ہے۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ اگرچہ ’اختلافات‘ موجود ہیں لیکن ان کو کم کرنے کی کوششیں لازمی ہیں۔ انہوں نے کہا: ’’اختلافات اپنی جگہ ہیں، لیکن ہمیں انہیں کم کرنا ہے۔ میری تنظیم نے قرارداد پاس کی ہے کہ بات چیت جاری رہنی چاہیے۔ ہم ہر اس کوشش کی حمایت کریں گے جس سے مکالمہ اور مصالحت کو فروغ ملے۔‘‘
موہن بھاگوت کے بیانات کی تحسین
مولانا محمود مدنی کہا کہ حال ہی میں راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آرایس ایس) کے سربراہ موہن بھاگوت نے گیان واپی اور متھرا-کاشی سے متعلق جو بیانات دیے ہیں، وہ مسلم برادری سے روابط قائم کرنے کی ایک اہم کوشش ہے اور اس کو سراہا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ’’آرایس ایس چیف کی جانب سے مسلم برادری سے روابط کی کوششوں کو سراہنا اور ان کی تعریف کرنا ضروری ہے۔ ہم ہر طرح کے مکالمات کی حمایت کریں گے۔‘‘
سیاسی زبان کے معیارپرتشویش
مولانا محمود مدنی نے حالیہ برسوں میں سیاسی زبان اورگفتگو کے معیارمیں کمی پر افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی، اپوزیشن رہنما اورمختلف ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ سبھی کی زبان میں شائستگی کم ہوئی ہے۔ انہوں نے آسام کے وزیراعلیٰ ہیمنت بسوا سرما کے بیانات کو ’’انتہائی توہین آمیز‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ریاست کا نگہبان ہونے کے ناطے انہیں ذمہ دارانہ زبان استعمال کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت میں اختلافات فطری ہیں، مگریہ نفرت یا دشمنی میں نہیں بدلنے چاہئیں۔
#WATCH | On Operation Sindoor, Islamic Scholar and Jamiat Ulama-i-Hind President Maulana Mahmood Madani, in an interview to ANI, says, “…The way those terrorists killed innocent people in Pahalgam after asking their names, I want to thank the public of my nation, as they showed… pic.twitter.com/RyoiEqF3FC
— ANI (@ANI) September 5, 2025
پہلگام دہشت گردانہ حملہ اور سول سوسائٹی کا کردار
مولانا محمود مدنی نے اپریل میں پہلگام میں پیش آنے والے پاکستان حمایت یافتہ دہشت گردانہ حملے کے بعد ملک کی سول سوسائٹی کے کردارکو’’انتہائی اہم‘‘ قراردیا۔ اس حملے میں 26 سیاح مارے گئے تھے، جن میں 25 بھارتی اورایک نیپالی شہری شامل تھے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں نے مذہب پوچھ کرلوگوں کو قتل کیا تاکہ فرقہ وارانہ فسادات بھڑکیں، مگرعوام نے صبر وتحمل کا مظاہرہ کیا اور دشمن کے منصوبے کوناکام بنایا۔ مولانا مدنی نے اس کارنامے کو ’’آپریشن سندور‘‘ سے بھی بڑا کارنامہ قراردیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اورحزب اختلاف دونوں نے اس معاملے میں افواج کی حمایت کی، جوکہ ہرشہری کا فرض ہے۔
#WATCH | In an interview to ANI, Islamic Scholar and Jamiat Ulama-i-Hind President Maulana Mahmood Madani says, “The security policy of the current government is better than the previous governments…Law enforcement agencies have become more professional…Law enforcement… pic.twitter.com/XwS4hKBS1r
— ANI (@ANI) September 5, 2025
مسلمانوں کی نسل کشی کے بیانیے کو مسترد کیا
مولانا محمود مدنی نے غیر ملکی بیانیے کو رد کیا جس میں کہا جاتا ہے کہ بھارت میں مسلمانوں کی نسل کشی کا خطرہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر پہلگام حملے کے بعد ایسا کوئی خطرہ ہوتا توحالات بگڑ سکتے تھے، مگرعوام اورسول سوسائٹی نے ہوش مندی کا مظاہرہ کیا۔
#WATCH | In an interview to ANI, Islamic Scholar and Jamiat Ulama-i-Hind President Maulana Mahmood Madani says, “There is a narrative woven abroad that genocide of Muslims will happen in India, I confront and tell them this can never happen in India…After the Pahalgam terrorist… pic.twitter.com/6K54C5brce
— ANI (@ANI) September 5, 2025
قانون نافذ کرنے والے اداروں کی تعریف
مولانا محمود مدنی نے کہا کہ پچھلے 10 برسوں میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی پیشہ ورانہ مہارت میں اضافہ ہوا ہے، تاہم مزید بہتری اورشمولیت کی ضرورت ہے۔ انہوں نے حکومت کی اس پالیسی کی بھی حمایت کی کہ پاکستان کے ساتھ ’’دہشت گردی اور بات چیت ساتھ ساتھ نہیں چل سکتی‘‘۔ ان کے مطابق ماضی میں پاکستان سے مذاکرات کا فائدہ نہیں ہوا، اس لیے موجودہ پالیسی درست ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

