Bharat Express DD Free Dish

Mahamandaleshwar of Juna Akhara Expelled: جونہ اکھاڑے کے دو مہا منڈالیشور عہدے سے برطرف، اردھ کُمبھ 2027 سے پہلے رسہ کشی کا ماحول

جونہ اکھاڑے نے یتیندر نند گِری اور سوامی پربودھانند گِری کو اکھاڑے کے نظم و ضبط کی خلاف ورزی کے الزامات میں برطرف کر دیا ہے۔

ہریدوار اردھ کُمبھ 2027 کی تیاریاں جاری ہیں اور اسی دوران جونہ اکھاڑے میں پیدا ہونے والا تنازعہ اب سنگین شکل اختیار کر چکا ہے۔ ملک کے سب سے بڑے اور بااثر اکھاڑوں میں شامل جونہ اکھاڑے نے اپنے دو مہا منڈلیشور، سوامی یتیندر نند گِری اور سوامی پربودھانند گِری کو تنظیم کی حدود اور روایات کی خلاف ورزی کے الزامات میں برطرف کر دیا ہے۔ اس فیصلے نے نہ صرف جونہ اکھاڑے کے اندر رسہ کشی پیدا کی ہے بلکہ پورے سنت سماج اور اکھاڑا کونسل میں بھی نئی بحث چھڑوا دی ہے۔ اردھ کُمبھ سے پہلے یہ واقعہ انتظامیہ اور مذہبی حلقوں کے لیے بڑا چیلنج بن کر سامنے آیا ہے۔

دونوں مہا منڈلیشور کے برطرف کیے جانے کی وجوہات

جونہ اکھاڑے کے مطابق، طویل عرصے سے دونوں سنتوں کے رویے پر تحفظات تھے۔ اکھاڑے کے سینئر سنتوں کا کہنا ہے کہ متعدد وارننگ کے باوجود دونوں مہا منڈلیشورتنظیم کی مقررہ حدود کی پابندی نہیں کر رہے تھے۔

1 ۔ اکھاڑا کونسل پر ’کُمبھ مافیا‘ کہنے کا الزام

   تنازعہ کی سب سے بڑی جڑ وہ بیانات ہیں جن میں دونوں مہا منڈلیشورنے اکھاڑا کونسل کے بعض عہدیداروں پر ’کُمبھ مافیا‘ کی طرح کام کرنے کا الزام لگایا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ کونسل میں بیٹھے کچھ افراد 2027 کے اردھ کُمبھ کی تیاریوں میں اپنے ذاتی مفادات پورے کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔  جونہ اکھاڑے نے اسے ’’تنظیم کی ساکھ پر براہِ راست حملہ‘‘ قرار دیا اور کہا کہ ایسے الزامات اجتماعی ڈھانچے کو کمزور کرتے ہیں۔

2 ۔حکومت اور انتظامیہ پر مسلسل سخت تبصرے

دونوں مہا منڈلیشورحالیہ دنوں میں کئی مقامات پر حکومت اور انتظامیہ کی کارکردگی پر شدید تنقید کر رہے تھے۔ اکھاڑے کے مطابق، ان کے بیانات سنت سماج کو غیر ضروری سیاسی تنازعات میں گھسیٹ رہے تھے۔  اکھاڑے  کا ماننا ہے کہ اس سے اس کی غیر جانبدار اور مذہبی شبیہ متاثر ہوئی ہے۔

3۔ اکھاڑے کی روایات اور فیصلوں سے فاصلے

   جونہ اکھاڑے کے مطابق دونوں مہا منڈلیشوراکھاڑے کے فیصلوں کی پیروی نہیں کر رہے تھے اور بیرونی فورمز پر اپنی ذاتی رائے کو اکھاڑے کی رائے کے طور پر پیش کر رہے تھے۔ اکھاڑے  نے اسے ’’حدود کی خلاف ورزی‘‘ قرار دیا اور دونوں سنتوں کو فوری طور پر برطرف کر دیا۔

صدر مہنت موہن بھارتی کا سخت بیان

’’ اکھاڑے کی حدود سب سے اہم، کسی بھی عہدیدار کو رعایت نہیں‘‘

برطرف کیے جانے کے اعلان کے دوران جونہ اکھاڑے کے بین الاقوامی صدر مہنت موہن بھارتی نے کہا کہ ’’ اکھاڑے کی روایات اور نظم و ضبط سب سے اعلیٰ ہیں۔ کوئی بھی شخص، چاہے اس کا عہدہ کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو، اکھاڑے کی حدود سے بالاتر نہیں ہو سکتا۔ دونوں سنتوں کا رویہ اکھاڑے کے اصولوں کے خلاف تھا، اس لیے یہ فیصلہ لینا ضروری تھا۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ اکھاڑا مستقبل میں ایسی صورتحال سے بچنے کے لیے نظم و ضبط کو مزید سخت کرنے کی سمت میں اقدامات کرے گا۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read