اجین/کویت: مدھیہ پردیش کے شہر اجین سے تعلق رکھنے والے 50 سالہ منظور احمد کی کویت میں المناک موت کی خبر نے پورے خاندان کو غم میں ڈبو دیا ہے۔ راج رائل کالونی کے رہائشی منظور احمد گزشتہ تقریباً 30 برسوں سے خلیجی ملک کویت میں محنت مزدوری کرکے اپنے خاندان کی کفالت کر رہے تھے، لیکن وطن واپسی کے خواب کے ساتھ ایئرپورٹ پہنچنے والے منظور احمد ایک اچانک حملے کا شکار ہو گئے اور جانبر نہ ہو سکے۔ خاندان کے افراد کے مطابق منظور احمد بھارت واپس آ رہے تھے تاکہ اپنے بھانجے کی شادی میں شرکت کر سکیں۔ گھر میں شادی کی تیاریاں جاری تھیں، عزیز و اقارب کی آمد شروع ہو چکی تھی اور خاندان کے افراد ان کے استقبال کے منتظر تھے، مگر خوشیوں کے اس ماحول کو ایک افسوسناک خبر نے ماتم میں بدل دیا۔ منظور احمد کویت سے ممبئی جانے والی پرواز کے انتظار میں ایئرپورٹ کے ٹرمینل پر موجود تھے۔ اسی دوران پیش آنے والے حملے میں وہ شدید زخمی ہوئے اور بعد ازاں ان کی موت واقع ہو گئی۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی خاندان کے افراد سکتے میں آ گئے اور پورے علاقے میں غم کی لہر دوڑ گئی۔
منظور احمد کے اکلوتے بیٹے محمد انس نے روتے ہوئے بتایا کہ منگل کی شام ان کی اپنے والد سے آخری مرتبہ فون پر بات ہوئی تھی۔ ان کے مطابق والد نہایت خوش تھے اور گھر واپسی کے لیے پرجوش دکھائی دے رہے تھے۔ انہوں نے فون پر بتایا تھا کہ وہ چند ہی گھنٹوں میں پرواز کے ذریعے ممبئی پہنچ جائیں گے اور وہاں سے سیدھے اجین آ کر شادی کی تقریبات میں شامل ہوں گے۔ محمد انس کے مطابق والد نے وعدہ کیا تھا کہ وہ خاندان کے ساتھ خوشیوں کے لمحات گزاریں گے، لیکن قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ فون کال ختم ہونے کے چند گھنٹوں بعد ان کی وفات کی خبر موصول ہوئی، جس نے پورے خاندان کو صدمے میں مبتلا کر دیا۔ اہل خانہ کا کہنا ہے کہ منظور احمد ہی گھر کے واحد کفیل تھے اور ان کی آمدنی پر پورے خاندان کا انحصار تھا۔
مرحوم کے بہنوئی شکیل احمد نے بتایا کہ منظور احمد نہایت شریف، محنتی اور ذمہ دار انسان تھے۔ انہوں نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ پردیس میں گزارا تاکہ اپنے بچوں کو بہتر تعلیم اور روشن مستقبل فراہم کر سکیں۔ ان کے خاندان میں اہلیہ، دو بیٹیاں اور ایک بیٹا شامل ہیں، جو ابھی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ اہل خانہ کے مطابق منظور احمد گزشتہ سال ہی مختصر مدت کے لیے وطن آئے تھے اور بچوں سے جلد دوبارہ آنے کا وعدہ کرکے واپس کویت گئے تھے۔ کسی نے تصور بھی نہیں کیا تھا کہ ان کی اگلی واپسی زندہ نہیں بلکہ ان کے جسدِ خاکی کی صورت میں ہوگی۔
اس افسوسناک واقعے کے بعد مقامی انتظامیہ اور متعلقہ حکام نے معاملے پر توجہ دینا شروع کر دی ہے۔ خاندان کے افراد مسلسل کویت میں موجود بھارتی سفارت خانے کے رابطے میں ہیں تاکہ ضروری قانونی کارروائی مکمل کرکے میت کو جلد از جلد بھارت منتقل کیا جا سکے۔ ذرائع کے مطابق سفارتی سطح پر تمام ضروری دستاویزات اور اجازت ناموں کی تکمیل کے لیے اقدامات جاری ہیں۔ راج رائل کالونی کے مکینوں اور مقامی سماجی شخصیات نے اس سانحے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ متاثرہ خاندان کو فوری مالی امداد فراہم کی جائے اور بیرون ملک پیش آنے والے اس واقعے کی مکمل تحقیقات کو یقینی بنایا جائے۔ علاقے کے لوگوں کا کہنا ہے کہ منظور احمد نے پوری زندگی محنت اور دیانت داری سے گزاری اور ان کی ناگہانی موت نے نہ صرف ایک خاندان بلکہ پورے محلے کو سوگوار کر دیا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


