کانگریس کی سینئر لیڈر اور سابق صدر سونیا گاندھی اور راہل گاندھی کی قانونی مشکلات ایک بار پھر بڑھ گئی ہیں۔ نیشنل ہیرالڈ کیس میں دہلی پولیس کی اکانامک آفینسز ونگ (EOW) نے نئی ایف آئی آر درج کی ہے، جس میں دونوں پر فوجداری سازش (Criminal Conspiracy) کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ اس ایف آئی آر میں راہول اور سونیا کے ساتھ 6 دیگر افراد اور 3 کمپنیوں کو بھی ملزم بنایا گیا ہے۔
ایف آئی آر کیوں درج ہوئی؟
یہ ایف آئی آر 3 اکتوبر کو ای ڈی (Enforcement Directorate) کی جانب سے کی گئی باضابطہ شکایت کی بنیاد پر درج کی گئی۔ ای ڈی نے اپنی تفصیلی تحقیقاتی رپورٹ دہلی پولیس کے ساتھ شیئر کی تھی۔ PMLA کی دفعہ 66(2) کے تحت ای ڈی کسی ایجنسی سے شیڈیولڈ جرم (Scheduled Offence) درج کرنے کی سفارش کر سکتی ہے، جس کے بعد پولیس نے کارروائی کی۔
کن لوگوں کو بنایا گیا ہے ملزم؟
ایف آئی آر میں ملزمان کے طور پر سونیا گاندھی، راہل گاندھی، انڈین اوورسیز کانگریس کے سربراہ سیم پیتروڈا اور تین دیگر افراد کے نام شامل ہیں۔ اس کے علاوہ تین کمپنیاں بھی ملزم ہیں:
- AJL (Associated Journals Limited)
- Young Indian
- Dotex Merchandise Pvt. Ltd
AJL پر قبضے کا الزام
کیس کے مطابق Dotex Merchandise Pvt. Ltd، جو کولکاتا کی مبینہ شیل کمپنی بتائی جاتی ہے، نے Young Indian کو 1 کروڑ روپے کا قرض فراہم کیا۔ اس مبینہ مالیاتی معاہدے کے ذریعہ Young Indian نے کانگریس کو صرف 50 لاکھ روپے ادا کر کے تقریباً 2 ہزار کروڑ روپے کی جائیداد رکھنے والی کمپنی AJL پر کنٹرول حاصل کر لیا۔ کیس کا الزام ہے کہ یہ سب فراڈ اور مجرمانہ سازش کے تحت کیا گیا۔
16 دسمبر کو اہم فیصلہ متوقع
نیشنل ہیرالڈ کیس میں ای ڈی کی جانب سے داخل چارج شیٹ پر فیصلہ گزشتہ ہفتے راؤز ایونیو کورٹ میں سنایا جانا تھا، لیکن عدالت نے کیس فائل کی دوبارہ جانچ کی ضرورت محسوس کرتے ہوئے فیصلہ مؤخر کر دیا۔ اب اس چارج شیٹ پر 16 دسمبر کو فیصلہ سنائے جانے کا امکان ہے۔
اس معاملے نے سیاسی گلیاروں میں ہلچل مچا دی ہے اور حکومت و اپوزیشن کے درمیان تناؤ مزید بڑھ چکا ہے۔ کانگریس نے ایف آئی آر کو سیاسی انتقام قرار دیا ہے، جب کہ حکومت کا دعویٰ ہے کہ کارروائی مکمل طور پر قانونی بنیادوں پر کی گئی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



