نئی دہلی :راہل گاندھی کے لوک سبھا میں بیان کے بعد جمعہ کو ایوان میں زبردست ہنگامہ دیکھنے کو ملا۔ حد بندی اور خواتین ریزرویشن پر جاری بحث کے دوران راہل گاندھی نے اپنے خطاب میں بالواسطہ طور پر وزیر اعظم مودی پر نشانہ سادھتے ہوئے “جادوگر” کا ذکر کیا، جس پر حکمراں جماعت کے ارکان نے شدید اعتراض کیا۔صورتحال اس وقت مزید کشیدہ ہو گئی جب اوم برلا نے مداخلت کرتے ہوئے راہل گاندھی کو ٹوکا اور کہا کہ ایوان کی کارروائی وقار کے ساتھ چلنی چاہیے۔ انہوں نے کہا، “یہ پارلیمنٹ ہے، چوراہا نہیں۔ جو باتیں باہر کہی جاتی ہیں، وہ یہاں نہیں کہی جا سکتیں۔” انہوں نے راہل گاندھی سے کہا کہ وہ بل کے موضوع پر ہی توجہ مرکوز رکھیں۔
راہل گاندھی کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ وزیر اعظم مودی کے لیے اس طرح کی زبان کا استعمال “غیر آئینی” اور “انتہائی افسوسناک” ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس شخصیت کو ملک کی عوام نے وزیر اعظم منتخب کیا ہو، اس کے لیے ایسے الفاظ کا استعمال پورے ملک کی توہین کے مترادف ہے۔
BJP is not stupid – they knew this bill couldn’t have passed
But they still brought it.
This was a panic reaction because the Prime Minister at any cost wanted to send out two messages
1) He wanted to change the electoral map of India
2) He needed to send this message again… pic.twitter.com/TdVTyYFi4E
— Supriya Shrinate (@SupriyaShrinate) April 17, 2026
راج ناتھ سنگھ نے مطالبہ کیا کہ راہل گاندھی کے بیان کو ایوان کی کارروائی سے حذف کیا جائے اور وہ عوام سے معافی مانگیں۔دوسری جانب مرکزی وزیر کرن ریجیجونے بھی راہل گاندھی کے بیان پر سخت تنقید کرتے ہوئے اسے “غیر پارلیمانی” قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے بیانات ایوان کے وقار کو ٹھیس پہنچاتے ہیں اور پارلیمانی روایات کے خلاف ہیں۔بعد ازاں لوک سبھا اسپیکر اوم برلا نے کہا کہ راہل گاندھی کے بیان کو کارروائی سے حذف کر دیا جائے گا۔ اس معاملے کے بعد ایوان میں سیاسی گرما گرمی مزید بڑھ گئی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


