نئی دہلی: دہلی کی راؤز ایونیو کورٹ نے جمعہ کے روز لینڈ فار جاب معاملے میں اہم فیصلہ سنایا۔ عدالت نے اس کیس میں کل 98 ملزمان میں سے 52 کو الزامات سے بری کر دیا ہے، جبکہ باقی ملزمان کے خلاف فردِ جرم عائد کرنے کے احکامات دیے ہیں۔ عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ اس معاملے میں 5 ملزمان کا انتقال ہو چکا ہے، ایسے میں اب 41 افراد کے خلاف مقدمہ چلے گا۔ اس کیس کی اگلی سماعت 29 جنوری کو ہوگی۔
لالو خاندان کے کئی افراد کے خلاف فردِ جرم عائد
عدالت نے سابق وزیر ریلوے اور راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے صدر لالو پرساد یادو سمیت ان کے خاندان کے کئی افراد کے خلاف فردِ جرم عائد کی ہے۔ عدالت نے لالو پرساد یادو، رابڑی دیوی، تیج پرتاپ یادو، تیجسوی یادو، میسا بھارتی اور ہیما یادو کے خلاف الزامات طے کرنے کا حکم دیا۔
لالو پر غیر منقولہ جائیدادیں حاصل کرنے کا الزام
اپنے حکم میں عدالت نے کہا کہ الزام ہے کہ لالو پرساد یادو نے اپنے عہدے کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے اپنی اہلیہ اور بچوں کے نام غیر منقولہ جائیدادیں حاصل کیں۔ عدالت کے مطابق اس پورے معاملے میں دیگر ملزمان نے بھی مجرمانہ سازش میں سرگرم تعاون کیا۔ عدالت نے تبصرہ کیا کہ ریلوے میں نوکریوں کے بدلے زمین لینے کا ایک طرح کا تبادلہ نظام چل رہا تھا، جس کے تحت کئی افراد کو ریلوے میں ملازمت دی گئی اور اس کے بدلے ان کی یا ان کے اہلِ خانہ کی زمین لی گئی۔
شواہد کی کمی کے باعث 52 ملزمان ہوئے بری
عدالت نے یہ بھی کہا کہ ابتدائی طور پر ایسا ظاہر ہوتا ہے کہ لالو پرساد یادو اور ان کا خاندان مجرمانہ سازش کا حصہ تھے، جبکہ دیگر ملزمان نے اس سازش کو انجام دینے میں مدد کی۔ حالانکہ، جن 52 ملزمان کے خلاف خاطر خواہ شواہد نہیں پائے گئے، انہیں عدالت نے بری کر دیا۔
اس معاملے میں عدالت نے ملزمان کے خلاف تعزیراتِ ہند (آئی پی سی) کی دفعات 420 اور 120 بی کے تحت الزامات طے کیے ہیں۔ اس کے علاوہ بدعنوانی کی روک تھام کے قانون (پریوینشن آف کرپشن ایکٹ) کی دفعات 13(1)(ڈی) اور 13(2) کے تحت بھی الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
قابلِ ذکر ہے کہ لینڈ فار جاب کیس اس دور سے متعلق ہے جب لالو پرساد یادو مرکزی حکومت میں وزیرِ ریلوے تھے۔ الزام ہے کہ ان کے دورِ وزارت میں ریلوے میں تقرریوں کے بدلے لوگوں سے زمین لی گئی۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


