لکھنؤ کی معتبر کنگ جارج میڈیکل یونیورسٹی (KGMU) میں طالبہ کے ساتھ جنسی استحصال اور جبری مذہب تبدیلی کی کوشش کا معاملہ اب مزید سنگین ہوتا جا رہا ہے۔ جیسے جیسے تفتیش آگے بڑھ رہی ہے، اس معاملے کی نئی پرتیں سامنے آ رہی ہیں۔ تازہ اطلاعات کے مطابق، اس کیس کے مرکزی ملزم ریزیڈنٹ ڈاکٹر رمیض ملک کے ساتھ دو اور بڑے نام، یعنی دو پروفیسرز بھی شک کے گھیرے میں آ گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق یہ دونوں پروفیسرز ڈاکٹر رمیض کی مدد کر رہے تھے اور اسے بچانے کی کوششوں میں سرگرم تھے۔
کال ڈیٹیل نے راز کھول دیے
جب پولیس نے مرکزی ملزم ڈاکٹر رمیض ملک کی کال ڈیٹیل ریکارڈ (CDR) کی جانچ کی تو چونکا دینے والے انکشافات سامنے آئے۔ تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ KGMU کے یہ دونوں پروفیسرز رمیض کے ساتھ مسلسل رابطے میں تھے اور ان کے درمیان بار بار طویل گفتگو ہوتی رہی۔ اندازے لگائے جا رہے ہیں کہ طالبہ پر دباؤ ڈالنے اور معاملے کو دبانے کی ہمت رمیض کو انہی پروفیسرز کی پشت پناہی سے ملی۔ فی الحال پولیس اور یونیورسٹی انتظامیہ اس بات کی باریک بینی سے جانچ کر رہی ہے کہ آخر ایک ملزم ڈاکٹر کا ساتھ دینے کے لیے پروفیسرز نے اپنی اخلاقی اور پیشہ ورانہ حدود کیوں پامال کیں۔
KGMU کی دو کمیٹیاں کر رہی ہیں تفتیش
اس حساس معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے یونیورسٹی میں دو مختلف سطحوں پر تحقیقات جاری ہیں:
وشاکھا کمیٹی: یہ کمیٹی طالبہ کے ساتھ ہونے والے جنسی استحصال کے الزامات کی گہرائی سے جانچ کر رہی ہے تاکہ متاثرہ طالبہ کو انصاف دلایا جا سکے۔
سات رکنی جانچ کمیٹی: یہ کمیٹی خاص طور پر ڈاکٹر رمیض کے ان مددگاروں کی شناخت میں لگی ہوئی ہے جو پردے کے پیچھے کردار ادا کر رہے تھے۔ اس کمیٹی کی اہمیت کا اندازہ اسی بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس میں ایک سابق ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (DGP) کے ساتھ کئی سینئر ڈاکٹرز بھی شامل ہیں۔
پیتھالوجی ڈیپارٹمنٹ پر سخت سوالات
تحقیقات کے دوران سب سے زیادہ سخت سوالات پیتھالوجی شعبے کے ڈاکٹروں سے کیے جا رہے ہیں۔ جانچ کمیٹی نے ان سے پوچھا ہے کہ جب متاثرہ طالبہ نے خودکشی کی کوشش کی تھی تو اس وقت انتظامیہ کو فوری اطلاع کیوں نہیں دی گئی؟ ذرائع کا کہنا ہے کہ شعبے کے بعض افراد نے معاملے کو دبانے کے لیے طالبہ پر ذہنی دباؤ ڈالا تھا۔ کمیٹی اس بات کی جانچ کر رہی ہے کہ طالبہ کو انصاف دلانے کے بجائے معاملے کو صلح صفائی کے نام پر کیوں دبانے کی کوشش کی گئی۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
