Bharat Express DD Free Dish

KGMU

لکھنؤ کے کنگ جارج میڈیکل یونیورسٹی (کے جی ایم یو) کیمپس میں واقع قدیم مزارات کو لے کر جاری انہدامی نوٹس نے ایک بڑا تنازع کھڑا کر دیا ہے۔ جمعیۃ علمائے ہند نے اس کارروائی کو مذہبی آزادی اور آئینی حقوق کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے نوٹس فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

لکھنؤ کے کے جی ایم یو کیمپس میں واقع مزار کو ہٹانے کے لیے انتظامیہ کی جانب سے نوٹس جاری کیے جانے کے بعد تنازع شدت اختیار کر گیا ہے۔ نوٹس میں 15 دن کے اندر مزار ہٹانے کی ہدایت دی گئی ہے، بصورت دیگر انتظامیہ کارروائی کرے گی اور اس پر آنے والا خرچ بھی ذمہ داران سے وصول کیا جائے گا۔

لکھنؤ کی کنگ جارج میڈیکل یونیورسٹی (KGMU) میں طالبہ سے جنسی استحصال کے معاملے میں ملزم ریزیڈنٹ ڈاکٹر رمیض ملک کی کال ڈیٹیل نے دو پروفیسرز کو شک کے دائرے میں لا کھڑا کیا ہے۔ اس کیس کی جانچ پولیس اور یونیورسٹی کی دو الگ الگ کمیٹیاں کر رہی ہیں۔

راجیہ سبھا رکن اور اتر پردیش کے سابق نائب وزیر اعلیٰ ڈاکٹر دینیش شرما نے کہا کہ پیرا میڈیکل کے شعبے کے لوگوں سے مریضوں کو بہت امید ہوتی ہے۔ پیرا میڈیکل کے شعبے کے لوگوں کو معالج کی عدم موجودگی میں معالج کی طرح اس کے دیئے گئے ہدایات کے مطابق اور تجربے کی بنیاد پر کام کرنا چاہئے۔