Bharat Express DD Free Dish

Ketan Agarwal Murder Case: کیتن اگروال قتل کیس میں والد کی صدر جمہوریہ دروپدی مرمو سے انصاف کی اپیل، فاسٹ ٹریک عدالت میں سماعت کا مطالبہ

خط کے اختتام پر انہوں نے صدر دروپدی مرمو سے معاملے پر ذاتی توجہ دینے اور جلد انصاف یقینی بنانے کی جذباتی اپیل کرتے ہوئے لکھا کہ ان کا خاندان اپنا سب کچھ کھو چکا ہے اور اب صرف انصاف ہی ان کی آخری امید ہے۔ انہوں نے درخواست کی کہ ان کے بیٹے کا مقدمہ ’’محض ایک اور فائل‘‘ بن کر نہ رہ جائے بلکہ اسے ترجیح اور حساسیت کے ساتھ دیکھا جائے۔

پونے: کیتن اگروال قتل کیس میں متاثرہ خاندان نے جلد انصاف کی فراہمی کا مطالبہ کرتے ہوئے صدرِ جمہوریہ دروپدی مرمو کو ایک جذباتی خط لکھا ہے۔ مقتول کے والد وشال اگروال نے ای میل کے ذریعے درخواست کی ہے کہ اس مقدمے کی سماعت فاسٹ ٹریک عدالت میں کرائی جائے تاکہ ملزمان کو قانون کے مطابق جلد از جلد سخت سزا دی جا سکے۔

’میں ایک باپ کی حیثیت سے انصاف مانگ رہا ہوں‘

اپنے خط میں وشال اگروال نے لکھا کہ وہ کسی صنعت کار یا بااثر شخصیت کی حیثیت سے نہیں، بلکہ ایک ایسے باپ کی حیثیت سے انصاف کی اپیل کررہے ہیں جس نے اپنے جوان بیٹے کو کھو دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کیتن کے بہیمانہ قتل کے بعد پورا خاندان شدید صدمے میں ہے اور ہر روز یہی سوال انہیں بے چین کرتا ہے کہ آخر ان کے بیٹے کو انصاف کب ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ انصاف میں تاخیر ان کے خاندان کے زخموں کو مزید گہرا کر رہی ہے۔

20 دن میں بیٹے اور والد، دونوں کو کھو دیا

وشال اگروال نے اپنے خط میں ایک اور ذاتی سانحے کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ کیتن کی موت کے صرف 20 دن بعد ان کے والد کا بھی انتقال ہو گیا۔ ان کے مطابق، پوتے کی اچانک موت کا صدمہ ان کے والد برداشت نہ کر سکے اور اسی غم نے ان کی جان لے لی۔ انہوں نے کہا کہ صرف 20 دن کے اندر انہوں نے اپنے بیٹے اور والد دونوں کو کھو دیا، جس سے پورا خاندان ٹوٹ کر رہ گیا۔

’یہ صرف ایک اور فائل نہ بن جائے‘

صدر جمہوریہ کے نام لکھے گئے خط میں وشال اگروال نے واضح کیا کہ ان کا خاندان کسی خصوصی رعایت یا امتیازی سلوک کا مطالبہ نہیں کر رہا، بلکہ صرف یہ چاہتا ہے کہ مقدمے کی سماعت فاسٹ ٹریک عدالت میں ہو تاکہ انصاف میں غیر ضروری تاخیر نہ ہو اور مجرموں کو جلد سزا مل سکے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بھی ضروری ہے کہ معاشرے میں یہ واضح پیغام جائے کہ کوئی بھی شخص قانون سے بالاتر نہیں اور جرم کرنے والوں کو بروقت سزا دی جاتی ہے۔ خط کے اختتام پر انہوں نے صدر دروپدی مرمو سے معاملے پر ذاتی توجہ دینے اور جلد انصاف یقینی بنانے کی جذباتی اپیل کرتے ہوئے لکھا کہ ان کا خاندان اپنا سب کچھ کھو چکا ہے اور اب صرف انصاف ہی ان کی آخری امید ہے۔ انہوں نے درخواست کی کہ ان کے بیٹے کا مقدمہ ’’محض ایک اور فائل‘‘ بن کر نہ رہ جائے بلکہ اسے ترجیح اور حساسیت کے ساتھ دیکھا جائے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read