نئی دہلی : کیرالہ کی وِزنجھم بندرگاہ نے منگل کے روز مکمل پیمانے پر برآمدات اور درآمدات (EXIM) کی سرگرمیوں کا آغاز کردیا۔ اس کے ساتھ ہی ریاست کی اس گہرے پانی کی بندرگاہ نے اپنے آپریشنز کے ایک نئے مرحلے میں قدم رکھ دیا ہے۔ اڈانی پورٹس اینڈ اسپیشل اکنامک زون (APSEZ) اب وِزنجھم کو محض ٹرانس شپمنٹ مرکز تک محدود رکھنے کے بجائے جنوبی ہندوستان کی وسیع مارکیٹ سے کارگو حاصل کرنے کے لیے ایک اہم تجارتی مرکز کے طور پر فروغ دینا چاہتا ہے۔کیرالہ میں منعقدہ افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے APSEZ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر اشونی گپتا نے کہا کہ EXIM آپریشنز کا آغاز وِزنجھم کے لیے ایک نئے باب کی شروعات ہے۔ ان کے مطابق بندرگاہ پہلے ہی ایک اہم ٹرانس شپمنٹ منزل کے طور پر اپنی شناخت قائم کرچکی ہے۔ انہوں نے کہا، ’’وِزنجھم صرف EXIM کارگو کے لیے اپنے دروازے نہیں کھول رہی، بلکہ ہندوستان اور دنیا کے درمیان ایک نیا گیٹ وے کھول رہی ہے۔‘‘برآمد کنندگان اور درآمد کنندگان کو براہِ راست فائدہاشونی گپتا کے مطابق EXIM آپریشنز سے کیرالہ کے برآمد کنندگان اور درآمد کنندگان کو بین الاقوامی مارکیٹ تک زیادہ براہِ راست رسائی حاصل ہوگی۔ سمندری غذا، مصالحہ جات، کاجو، کوئر اور انجینئرنگ مصنوعات جیسے شعبوں کو اس کا خاص فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ برآمد کنندگان کے لیے بین الاقوامی منڈیوں تک سامان پہنچانے میں وقت کم ہوگا، جبکہ درآمد کنندگان کو خام مال نسبتاً تیزی سے مل سکے گا۔ اس سے سپلائی چین زیادہ مؤثر ہوگی۔ خاص طور پر چھوٹی، انتہائی چھوٹی اور درمیانے درجے کی صنعتوں (MSMEs) کے لیے ٹرانزٹ میں بچنے والا ہر دن کاروباری مسابقت اور نقدی کے بہاؤ کو بہتر بنانے میں مددگار ہوسکتا ہے۔
جنوبی ہندوستان کا بڑا گیٹ وے بنانے کا منصوبہ
APSEZ کے سی ای او نے کہا کہ مکمل سڑک اور ریلوے رابطہ قائم ہونے کے بعد وِزنجھم نہ صرف کیرالہ بلکہ پورے جنوبی ہندوستان کے صنعتی علاقوں کے لیے ایک اسٹریٹجک گیٹ وے بن سکتی ہے۔ اس سے آندھرا پردیش، کرناٹک، تمل ناڈو اور کیرالہ کے کاروباری اداروں کو عالمی منڈیوں تک رسائی حاصل کرنے میں سہولت ہوگی۔بندرگاہ کے اگلے مرحلے میں صرف کنٹینر ہینڈلنگ کی صلاحیت بڑھانے پر توجہ نہیں دی جائے گی بلکہ ایک وسیع بحری اور لاجسٹکس ایکو سسٹم بھی تیار کیا جائے گا۔ اس میں بنکرنگ سہولت، مائع کارگو جیٹی، گودام، لاجسٹکس پارکس اور کنٹینر فریٹ اسٹیشن شامل ہوں گے۔
#WATCH | Thiruvananthapuram: On the inauguration of the EXIM operations at Vizhinjam Port, Ashwani Gupta, CEO and Whole-Time Director of Adani Ports and Special Economic Zone Ltd (APSEZ), says, “Nearly one in every three transshipment containers in India now moves through this… https://t.co/TIU3aLQiUj pic.twitter.com/XL8z2CTdiw
— ANI (@ANI) August 18, 2026
5.7 ملین TEUs تک بڑھے گی صلاحیت
اشونی گپتا کے مطابق وِزنجھم بندرگاہ نے اپنے پہلے مکمل سال کے آپریشن میں 23 لاکھ سے زیادہ TEUs کنٹینرز ہینڈل کیے اور ہندوستان کی ٹرانس شپمنٹ کنٹینر مارکیٹ کا تقریباً 30 فیصد حصہ حاصل کیا۔ بندرگاہ تقریباً 400 میٹر لمبے انتہائی بڑے کنٹینر جہازوں کو بھی ہینڈل کرچکی ہے۔APSEZ اب تک وِزنجھم میں 7,700 کروڑ روپے سے زیادہ کی سرمایہ کاری کرچکی ہے، جبکہ کمپنی نے دوسرے مرحلے کے لیے مزید 16,000 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کا وعدہ کیا ہے۔ اس توسیع کے بعد بندرگاہ کی سالانہ کنٹینر ہینڈلنگ صلاحیت 1.6 ملین TEUs سے بڑھ کر 5.7 ملین TEUs ہوجائے گی۔کمپنی کے مطابق اس توسیع سے وِزنجھم بحر ہند کے خطے کے بڑے کنٹینر ہب میں تبدیل ہوسکتی ہے۔ گپتا نے کہا کہ اس منصوبے کا مقصد ایسا ایک مربوط نظام تیار کرنا ہے جس کے ذریعے زیادہ سے زیادہ کارگو، ویلیو ایڈیشن اور اقتصادی سرگرمی ہندوستان، بالخصوص کیرالہ میں برقرار رہے۔انہوں نے بتایا کہ بندرگاہ کی تعمیر اور ترقی کے دوران سمندری طوفان، بلند لہروں، طویل مانسون اور لاکھوں ٹن پتھر کی فراہمی و منتقلی جیسے کئی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کے مطابق وِزنجھم کی ترقی ہندوستان کی عالمی منڈیوں سے بہتر اور تیز رابطہ قائم کرنے کی وسیع حکمت عملی کا حصہ ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


