اترپردیش کے کوشامبی ضلع میں پٹاخہ بنانے والی ایک فیکٹری میں زورداردھماکے کے بعد خوف وہراس پھیل گیا۔ یہ حادثہ پپری تھانہ علاقے کے محمود پورمیں پیش آیا۔ دھماکے میں کم از کم 5 افراد کی موت ہو گئی، جبکہ کئی دیگرافراد زخمی ہوئے ہیں۔ زخمیوں کوعلاج کے لیے پریاگ راج کے ایس آراین اسپتال کے ٹراما سینٹرپہنچایا گیا ہے۔ ایک خاتون کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے، جسے اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ دھماکے کی اطلاع ملتے ہی سرکل آفیسرشیوانگ سنگھ سمیت بڑی تعداد میں پولیس فورس موقع پر پہنچ گئی۔ ضلع انتظامیہ کی ٹیمیں بھی راحت اوربچاؤ کے کام میں مصروف ہیں۔
کوشامبی کے ضلع مجسٹریٹ امیت پال شرما نے بتایا کہ اطلاع ملتے ہی ایمبولینس کے ساتھ فائربریگیڈ کی 4 گاڑیاں بھی موقع پرروانہ کی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ راحت اوربچاؤکا کام جاری ہے۔ تقریباً پانچ افراد کوملبے سے باہرنکالا گیا ہے، جن میں سے کچھ کو علاج کے لیے اسپتال بھیجا گیا ہے اورانہیں فوری طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ شدید زخمی افراد کی حالت کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔
حادثے کے بعد دو اضلاع کی ٹیمیں موقع پر تعینات
ڈی ایم امیت پال شرما نے بتایا کہ حادثے کی اطلاع ملتے ہی پولیس اورضلعی انتظامیہ نے فوری کارروائی شروع کردی۔ دونوں اضلاع کی ٹیموں کوموقع پرتعینات کیا گیا ہے۔ ابتدائی جانچ میں معلوم ہوا ہے کہ دھماکے اوراس کے بعد لگی آگ سے تقریباً تین مکانات بھی متاثر ہوئے ہیں۔
وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے حادثے کا لیا نوٹس
اترپردیش کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے کوشامبی میں پٹاخہ فیکٹری میں ہوئے حادثے کا نوٹس لیا ہے۔ انہوں نے حادثے میں جان گنوانے والے افراد کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہارکیا۔وزیراعلیٰ نے متعلقہ افسران کوزخمیوں کومناسب اوربہترطبی سہولت فراہم کرنے کے ساتھ متاثرہ خاندانوں کوہرممکن مدد پہنچانے کی ہدایت دی ہے۔ انہوں نے حادثے میں زخمی ہونے والے افراد کی جلد صحت یابی کے لیے بھی دعا کی۔
بھارت ایکسپریس اردو-
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔




