نئی دہلی :الہ آباد ہائی کورٹ کے جسٹس یشونت ورما نے مواخذے کی کارروائی شروع ہونے سے پہلے ہی اپنا استعفیٰ صدر جمہوریہ دروپدی مرمو کو بھیج دیا ہے۔ ان کا نام حال ہی میں مبینہ کیش اسکینڈل میں سامنے آیا تھا، جس کے بعد ان کے خلاف داخلی جانچ جاری تھی اور پارلیمنٹ کے ذریعے انہیں عہدے سے ہٹانے کی کارروائی شروع ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا تھا۔اطلاعات کے مطابق جسٹس یشونت ورما نے جمعہ کے روز استعفیٰ دینے کا فیصلہ کیا۔ اس سے قبل وہ دہلی ہائی کورٹ میں تعینات تھے، جہاں ان کے سرکاری رہائش گاہ سے مبینہ طور پر نقد رقم ملنے کے بعد تنازع کھڑا ہو گیا تھا۔ اس معاملے کے بعد ان کا تبادلہ واپس الہ آباد ہائی کورٹ کر دیا گیا تھا۔ انہوں نے 5 اپریل 2025 کو الہ آباد ہائی کورٹ کے جج
کے طور پر حلف لیا تھا۔
Justice Yashwant Varma of the Allahabad High Court has submitted his resignation to the President. He was earlier transferred from the Delhi High Court back to Allahabad following a controversy over alleged cash discovery at his residence. He took oath on April 5, 2025, and is… pic.twitter.com/KZJNpcLP2a
— ANI (@ANI) April 10, 2026
کیش اسکینڈل میں نام آنے کے بعد جسٹس ورما کے خلاف مواخذے کی تیاری کی جا رہی تھی۔ تاہم اس کارروائی سے پہلے ہی انہوں نے استعفیٰ دے کر سب کو حیران کر دیا۔ ان کے استعفیٰ کو عدالتی حلقوں میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔اس سے قبل وزارت قانون و انصاف (بھارت) نے ایک نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے جسٹس یشونت ورما کے تبادلے کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد وہ الہ آباد ہائی کورٹ میں تعینات ہو گئے تھے۔ سپریم کورٹ آف انڈیا کے کولیجیم نے بھی ان کے تبادلے کی سفارش کی تھی۔ذرائع کے مطابق اس وقت کہا گیا تھا کہ تبادلے کا فیصلہ ہولی کی رات جج کی سرکاری رہائش گاہ پر آگ لگنے اور مبینہ طور پر نقدی ملنے کے معاملے سے الگ ہے، تاہم اس واقعے نے تنازع کو مزید بڑھا دیا تھا۔ اس معاملے پر داخلی جانچ جاری تھی اور اسی دوران مواخذے کی تیاری بھی شروع کر دی گئی تھی۔
جسٹس یشونت ورما کے استعفیٰ کے بعد اب یہ معاملہ مزید سیاسی اور قانونی بحث کا موضوع بن گیا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ ان کے استعفے کے بعد مواخذے کی کارروائی پر بھی اثر پڑ سکتا ہے، جب کہ حکام کی جانب سے آئندہ کارروائی پر نظر رکھی جا رہی ہے۔
بھارت ایکسپریس ادو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
