’ون نیشن ون الیکشن‘ بل پر مشترکہ پارلیمانی کمیٹی (جے پی سی) پیر 11 اگست کو سہ پہر تین بجے پارلیمنٹ ہاؤس انیکسی کے مین کمیٹی روم میں ماہرین کے ایک پینل سے ملاقات کرے گی۔ ماہرین میں پروفیسر جی گوپال ریڈی (مرانڈا ہاؤس، دہلی یونیورسٹی)، پروفیسر سشما یادو (سینٹرل یونیورسٹی آف ہریانہ)، ڈاکٹر ونئے سہاسر بُدّھے (سابق رکن راجیہ سبھا)، پروفیسر شیلا رائے (راشٹریہ سماج وگیان پریشد) اور پروفیسر نانی گوپال مہنتا (گواہاٹی یونیورسٹی) شامل ہیں۔ اجلاس کا موضوع لوک سبھا اور ریاستی اسمبلیوں کے بیک وقت انتخابات کے امکانات اور چیلنجز ہوگا۔
آئندہ اجلاس اور سابق چیف جسٹس سے ملاقات
19 اگست کو کمیٹی سابق چیف جسٹس آف انڈیا جسٹس سنجیو کھنہ سے بھی ان بلوں پر تبادلۂ خیال کرے گی۔
گزشتہ اجلاس میں معاشی اثرات پر بریفنگ
30 جولائی کے اجلاس میں این کے سنگھ (سابق رکن راجیہ سبھا اور سابق چیئرمین پندرہویں فنانس کمیشن) اور ڈاکٹر پراچی مشرا (پروفیسر آف اکنامکس، اشوکا یونیورسٹی) نے بیک وقت انتخابات کے معاشی اثرات پر تفصیلی پریزنٹیشن دی۔ اہم نکات میں شامل تھے:
* حقیقی جی ڈی پی میں 1.5 فیصد اضافہ، جس کی مالیت مالی سال 24 میں تقریباً 4.5 لاکھ کروڑ روپے ہوگی۔
* بیک وقت انتخابات کے بعد مالی خسارہ 1.3 فیصد جی ڈی پی بڑھتا ہے مگر قبل از انتخابات اخراجات کم رہتے ہیں۔
* ترقیاتی سرمایہ کاری میں اضافہ، سرمایہ بمقابلہ جاری اخراجات کا تناسب 5.4 فیصد پوائنٹ زیادہ۔
* مجموعی سرمایہ تشکیل (GFCF) کی شرح 0.5 فیصد پوائنٹ زیادہ، خاص طور پر نجی اور غیر ملکی سرمایہ کاری میں۔
* بار بار انتخابات سے پیداوار، سیاحت، صحت اور تعمیرات متاثر، مزدور بار بار وطن واپس جاتے ہیں۔
* ملک کی ایک تہائی آبادی مہاجر ہے، کثرتِ انتخابات ان پر مالی بوجھ ڈالتی ہے اور ووٹنگ کے حق سے محروم کر دیتی ہے۔
* غیر متزامن انتخابات کے دوران پرائمری اسکول میں داخلہ 0.5 فیصد پوائنٹ کم، اساتذہ الیکشن ڈیوٹی پر اور اسکول پولنگ بوتھ میں تبدیل۔
* انتخابات کے دوران جرائم میں اضافہ، خاص طور پر طویل تعیناتی والے غیر متزامن انتخابات میں۔
* ماڈل کوڈ آف کنڈکٹ بار بار نافذ ہونے سے ترقیاتی کام سست۔
* 1986 سے ہر سال انتخابات، مسلسل انتخابی ماحول۔
* ایک ریاست کے انتخابی وعدے دیگر ریاستوں پر اثر انداز ہو کر پالیسی کنفیوژن پیدا کرتے ہیں۔
* بار بار انتخابات میں غیر پائیدار فلاحی اقدامات میں اضافہ، این کے سنگھ کے مطابق یہ ’فزیکل پاپولزم کی دوڑ‘ ہے۔
* زرعی پالیسی میں غیر یقینی، ایم ایس پی، سبسڈی اور قرض معافی جیسے فیصلے بار بار زیر بحث۔
کمیٹی کی تشکیل اور دائرۂ کار
یہ کمیٹی گزشتہ سرمائی اجلاس میں قائم کی گئی تھی جب مرکز نے بل کو تفصیلی قانون سازی کے جائزے کے لیے بھیجنے پر اتفاق کیا۔ ابتدا میں وزیر قانون ارجن رام میگھوال نے بل پیش کیا تھا، بعد ازاں اپوزیشن کے مطالبے پر ارکان کی تعداد بڑھا کر 39 کر دی گئی۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


