Bharat Express DD Free Dish

Parliament Monsoon Session: لوک سبھا میں پیپر لیک مخالف بل پیش، اسپیکر اوم برلا بولے: یہ اصلاحات کی جانب پہلا قدم، لوک سبھا کی کارروائی دوپہر دو بجے تک کے لیے ملتوی

بل پیش ہونے کے بعد لوک سبھا اسپیکر اوم برلا نے ارکان کو اس پر ترامیم پیش کرنے کے لیے دوپہر ایک بجے تک کا وقت دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک نہایت اہم بل ہے، جس پر ایوان اور ملک کی توقعات وابستہ ہیں۔ ان کے مطابق تمام سیاسی جماعتیں کافی عرصے سے اس موضوع پر قانون سازی کا مطالبہ کر رہی تھیں اور یہ امتحانی نظام میں اصلاحات کی سمت پہلا اہم قدم ہے۔

نئی دہلی: مرکزی وزیر جتیندر سنگھ نے پیر کے روز لوک سبھا میں پیپر لیک کے خلاف سخت قانون سازی سے متعلق “عوامی امتحانات (غیر منصفانہ ذرائع کی روک تھام) ترمیمی بل-2026” پیش کر دیا۔ یہ بل نیٹ (NEET) پیپر لیک معاملے پر کئی ہفتوں تک جاری ملک گیر احتجاج کے بعد پارلیمنٹ میں لایا گیا ہے۔بل کو ایوان میں اس وقت پیش کیا گیا جب وقفۂ صفر کے دوران اپوزیشن ارکان مسلسل نعرے بازی اور ہنگامہ آرائی کر رہے تھے۔ جتیندر سنگھ کی جانب سے بل پیش کیے جانے کے بعد حکمراں اتحاد (این ڈی اے) کے ارکان نے میزیں بجا کر اس کی حمایت کا اظہار کیا۔

بل پیش ہونے کے بعد لوک سبھا اسپیکر اوم برلا نے ارکان کو اس پر ترامیم پیش کرنے کے لیے دوپہر ایک بجے تک کا وقت دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک نہایت اہم بل ہے، جس پر ایوان اور ملک کی توقعات وابستہ ہیں۔ ان کے مطابق تمام سیاسی جماعتیں کافی عرصے سے اس موضوع پر قانون سازی کا مطالبہ کر رہی تھیں اور یہ امتحانی نظام میں اصلاحات کی سمت پہلا اہم قدم ہے۔اوم برلا نے کہا، “میں چاہتا ہوں کہ اس بل پر ایوان میں تفصیلی بحث ہو۔ تمام ارکان اپنے خیالات پیش کریں تاکہ
ہم مل کر ایسا مؤثر نظام تشکیل دے سکیں جو ملک میں پیپر لیک جیسے جرائم کو روکنے میں کامیاب ہو۔”

اس دوران اپوزیشن کی جانب سے نعرے بازی اور احتجاج کا سلسلہ جاری رہا۔ اسپیکر نے اپوزیشن ارکان سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اپنی بات رکھنے کے لیے بھرپور وقت دیا جائے گا اور ایوان کی رضامندی کے مطابق اس اہم بل پر تفصیلی بحث کرائی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کو اس قانون پر اپنی رائے اور تجاویز پیش کرنے کا پورا موقع ملے گا۔اوم برلا نے مزید کہا، “آپ کافی عرصے سے اس معاملے پر بحث کا مطالبہ کر رہے تھے، آج وہ موقع آ گیا ہے۔ اس بل کے علاوہ بھی اگر آپ کوئی مفید تجاویز دیں گے تو حکومت ان پر سنجیدگی سے غور کرنے کی کوشش کرے گی۔ یہی جمہوریت کی خوبصورتی ہے کہ ہر رائے کو سنا جائے اور مثبت تجاویز کو اہمیت دی جائے۔”

انہوں نے اپوزیشن سے مطالبہ کیا کہ نعرے بازی اور پلے کارڈ دکھانے کے بجائے تعمیری بحث میں حصہ لیں تاکہ امتحانی نظام کو شفاف اور مضبوط بنانے کے لیے مؤثر قانون سازی کی جا سکے۔تاہم اسپیکر کی بار بار اپیل کے باوجود اپوزیشن ارکان نے ہنگامہ جاری رکھا، جس کے باعث لوک سبھا کی کارروائی دوپہر دو بجے تک کے لیے ملتوی کر دی گئی۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read